حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 347 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 347

حقائق الفرقان ۳۴۷ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ اب ان تمام امور پر نظر کرو اور سوچو تو معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی جمعہ میں بھی فتن دجال سے ڈرایا ہے۔جمعہ میں فتن دجال سے ڈرانا اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے۔جس پر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے مطلع کیا ہے کہ جمعہ کے ساتھ مسیح موعود کو عظیم الشان تعلق ہے بلکہ میں یہ یقیناً کہتا ہوں کہ جمعہ کا وجود بھی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت اور آمد کے لئے ایک نشان اور پیشگوئی تھا۔مگر افسوس ہے کہ جب مسلمانوں نے معمولی جمعہ سے لا پروائی کی اور اس کو ترک کر دیا تو اس بڑے جمعہ کی طرف آنے کی ان کو تو فیق ملنی بہت مشکل ہوگئی۔میں نے بڑے غور کے ساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کی تاریخ پر فکر کی ہے۔اور میں اس صحیح نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ سلسلہ زوال اُس وقت سے شروع ہوتا ہے جب مسلمانوں نے ترک جمعہ کو کیافتنِ دجال سے جو جمعہ کے آداب میں ڈرایا ہے یہ اشارہ تھا اس امر کی طرف کہ دجال کا فتنہ عظیم اس جمعہ میں ہو نیوالا ہے۔دجال کے مختلف معنی ہیں۔دجال سونے کے معنے بھی دیتا ہے اور دجال تجارتی کمپنیوں کو بھی کہتے ہیں یہاں جملہ میں بیچ کے لفظ سے بتایا ہے کہ دجال کی پروا نہ کرو۔اب یہ وہ جملہ آ گیا ہے جس کی یاد دہانی جمعہ میں رکھی گئی تھی۔عجیب بات ہے کہ اس مسیح موعود کو آ دم بھی کہا گیا ہے۔اور پھر یہ اور بھی مشابہت ہے کہ جیسے آدم کی تکمیل جمعہ کی آخری گھڑی میں ہوئی تھی اسی طرح پر اس مسیح موعود کے ہاتھ پر بھی اسلام کی تکمیل اشاعت کا کام رکھا گیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ - (الصف:١٠) مفسروں نے بالا تفاق تسلیم کر لیا ہے کہ یہ غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ہوگا اور حضرت امام ني الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة: ٤) کے جو معنے کئے ہیں۔وہ آپ میں سے اکثروں نے سنے ہوں گے۔وہ فرماتے ہیں کہ تکمیل سے دو قسم کی تکمیل مراد ہے۔ایک تکمیل ہدایت۔دوسری لے وہی اللہ ہے جس نے بھیجا اپنے رسول ( محمد مصطفی احمد مجتبی ملی یا ایلیم) کو ہدایت کا سچا دین دے کر تا کہ اس کو غالب کرے سب ہی دینوں پر گومشرک برا مانا ہی کریں۔