حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 345 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 345

حقائق الفرقان ۳۴۵ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهم كوسورۃ جمعہ ہی میں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔غرض مسیح موعود کا زمانہ ایک روحانی جمعہ ہے اور کیا یهَا الَّذِينَ آمَنُوا سے مراد وہی قوم ہوسکتی ہے اور ہے۔جو مسیح موعود کو ماننے والی ہے۔اگر چہ عام طور پر عام مسلمان بھی اس حکم کے نیچے ہیں لیکن جو باوجود مسلمان اور مومن کہلانے کے مسیح موعود کا انکار کرتے ہیں۔وہ دراصل قرآن شریف کی اس آیت کے مصداق ہیں: أَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتَب وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ - (البقرة :۸۲) پس میں یقینی طور پر سچا مصداق اس آیت کا انہیں لوگوں کو مانتا ہوں جو گل قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں اور عملی یا اعتقادی طور پر کسی حصہ کا انکار نہیں کرتے ہیں غرض اللہ تعالیٰ مومنوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ تم ذکر اللہ کی طرف چلے آؤ۔صلوۃ کیا ہے؟ اس کا جواب خود اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں دیا ہے۔إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنكبوت: ۴۶) نماز تمام بے حیائیوں اور بدکاریوں سے روکتی ہے۔پس اگر نماز پڑھ کر بھی بے حیائیاں اور بدیاں نہیں رکھتی ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ابھی تک نماز اپنے اصل مرکز پر نہیں۔اور وہ سچا مفہوم جو نماز کا ہے وہ حاصل نہیں ہوا۔اس لئے میں تم سب کو جو یہاں موجود ہیں مخاطب کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ تم اپنی نمازوں کا اسی معیار پر امتحان کرو اور دیکھو کہ کیا تمہاری بد یاں دن بدن کم ہورہی ہیں یا نہیں۔اگر نسبتا ان میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا۔تو پھر یہ خطرناک بات ہے۔مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لئے بلا یا جاوے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی الحکم جلد ۷ نمبر ۵ مورخہ ۱۷ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۴) طرف آجاؤ۔یہ تمہارے لئے اچھا ہے اور بیج چھوڑ دو۔میں نے اس بیع کے لفظ پر غور کی ہے کہ یہ کیوں کہا؟ انسان مختلف مشاغل میں مصروف ہوتا ہے ملازمت ، حرفت، زراعت وغیرہ۔یہاں خصوصیت کے لے تو کیا تم کتاب کے بعض احکام پر ایمان لاتے ہو اور بعض احکام سے انکار کرتے ہو۔