حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 336
حقائق الفرقان ۳۳۶ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ اور اس پر حکومت کی خواہش کرتے ہیں حالانکہ اللہ غایب علی آمرہ اس کی شان ہے۔مختصر یہ کہ ہم محتاج تھے اور قحط زدہ تھے۔فطرتا ہم چاہتے تھے کہ اس وقت ہماری دستگیری کی جاوے لیکن ہماری صرف صورت سوال تھی۔اگر ہم میں عقل ہوتی تو زمانہ کی حالت کو دیکھ کر آنے والے کی تلاش کرتے۔مگر میں پھر بھی اللہ تعالیٰ کے بڑے فضل کا شکریہ کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے ٹھوکر نہیں کھانے دی بلکہ میری حفاظت فرمائی۔الحکم جلدے نمبر ۲ مورخہ ۱۷/جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۴) هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُقِينَ رَسُولًا: اُمُّ الْقُرى كی طرف نسبت کرنے میں امی بولتے ہیں۔۔۔پس اُمی کے معنے ہوئے۔اُم القری کا رہنے والا۔اور ام القری مکہ کا نام ہے۔پس ان پڑھ کے معنے خواہ مخواہ لے لئے۔موقع مناسب آگا پیچھا دیکھ کر معنے کرنا چاہیے تھا اور بیچ یہ ہے کہ جہاں کوئی بادی بھیجا جاتا ہے۔اسی بستی کو اس بادی کے زمانے میں اور بستیوں کا اُمّم جس کے معنے اصل کے ہیں کہا جاتا ہے ثبوت۔يَبْعَثُ فِي أُمَّهَا رَسُولًا (القصص:۲۰) قرآن میں ہے پھر اس لحاظ سے بھی مکہ معظمہ کو اُم اور ام القری کہا گیا۔اور ہر مامور کی بستی اُتم ہوا کرتی ہے۔نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۳۱۰) يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَ كَيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ۔یعنی پہلے لوگوں کو احکام الہی سنائے جاویں۔ان کو کتاب و حکمت سکھائی جاوے۔پھر ان کا تزکیہ ہو۔تین مرتبے ہیں۔يَتْلُوا يُعَلِّمُهُمْ يُزكيهم - حدیث میں ان کو اسلام، ایمان ، احسان سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔رسول کریم تزکیہ کس رنگ میں فرماتے۔جب اپنا فرماں بردار کسی کو دیکھتے تو پھر اس کے لئے دعائیں کرتے اور اسی طرح پر اللہ کا فضل خصوصیت سے اس پر نازل ہوتا اور خدا تعالیٰ خود اس کا متولی ہو جاتا۔صحابہ میں بھی تین قسم کے لوگ تھے۔ایک معلم چنا نچہ ابوھریرہ ، عبداللہ بن عمر ، انس بن مالک۔یہ جس قدر لوگ ہیں احکام سناتے رہے۔صحابہ میں سے بعض خواص ایسے تھے کہ ان سے بہت کم احادیث سناتے۔جیسے خلفائے راشدین بالخصوص حضرت ابوبکر۔مگر جو حدیثیں انہوں نے سنائیں۔وہ ایسی جامع ہیں کہ