حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 332
حقائق الفرقان ۳۳۲ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ میں نے دیکھا ہے کہ علماء ایک بڑی بھاری غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔جب کہ وہ تمام مختلف پیشگوئیاں جو مختلف اشخاص کے حق میں ہوئی ہیں۔ایک ہی آدمی میں جمع کرنا چاہتے ہیں۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُم کی آیت بھی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ موعود خلیفے ایک سے زیادہ ہوں گے۔پھر کیوں سعی کی جاتی ہے کہ سب کا مصداق ایک ہی ہو۔مختلف مہدی ہوئے اور اپنے اپنے وقت پر ہو گزرے۔مسیح بھی ایک مہدی ہے اور وہ اب موجود ہے۔مگر ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ جس کو چاہتا ہے فضل دیتا ہے۔اگر کہو کہ اس وقت بہت سے سلسلے گدی نشین اور سجادہ نشین اور کیا کیا ہیں۔تو سنو! مَقَلُ الَّذِينَ -۔۔الآية۔اسفاران بڑی کتابوں کو کہتے ہیں جن سے کشف حقائق ہو جاتا ہے۔مگر کوئی بتائے کہ ان انکشافات کے اسباب سے گدھا کیا فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔گدھا جس کی عقدہمت اور توجہ اس سے پرے نہیں کہ دانہ اور گھاس مل جاوے یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ اچھی اروڑی مل جاوے اور طویلہ کا آخری حصہ ہو جو خاکروب نے اچھی طرح صاف نہ کیا ہو۔رات کو جھول اور پالان مل جاوے۔مقدرت سے زیادہ بوجھ نہ ہو۔اصل غرض اس کی تھوڑی سی نفس پرستی ہے۔اسی مثال کو اللہ تعالیٰ یہاں بیان کرتا ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس انکشاف حقائق کے اسباب ہوتے ہیں مگر وہ ان سے اس قدر فائدہ صرف اٹھاتے ہیں۔جس قدر گدھا دانے ،گھاس چُھل ، پالان اور تھوڑی سی رہتی یا اروڑی سے۔پس جن کی اصل غرض دنیا ہوتی ہے۔وہ ان اسباب انکشاف حقائق سے اسی مقدار دنیا طلبی کے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔اس وقت ایک قوم دنیا میں موجود ہے۔جس نے ۲۷ سو زبان میں ایک کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔اور پھر ترجمہ در ترجمہ کر کے بھی کہتے ہیں کہ وہ کلام اللہ ہے۔اگر پوچھو کہ اس پر عمل کرنا شرط ہے۔یا نہیں۔تو کہہ دیتے ہیں کہ شرط نہیں۔کیونکہ شریعت لعنت ہے پر سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قدر بوجھ کیونکر اٹھایا ہے۔اس کی غرض ترجمہ کنندہ کی غرض روپیہ ہے۔پر بچر کی غرض اتنی ہی ہے کہ تنخواہ مل جاوے! یہ قوم اس کی مصداق ہے يَكْتُبُونَ الْكِتَبَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا