حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 328
حقائق الفرقان ۳۲۸ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے قرآن جیسا مجھے فلسفہ دیا اور پھر ایک اپنا امام مجھے عطا کیا ہے کہ جس کی قوت قدسی اور تاثیر صحبت سے یہ فلسفہ مجھے بہت ہی عزیز اور کامل تر فلسفہ ملا۔میں نے دیکھا ہے کہ آجکل کے نوجوان جو انگریزی فلسفہ کی چند کتا میں پڑھتے ہیں جس پر بجائے خود بیسیوں نہیں سینکڑوں اعتراض ہیں۔بڑے فخر سے مل، سپنسر کے نام لیتے ہیں اور ناز کرتے ہیں کہ پلیٹو نے فلسفہ میں یہ لکھا ہے اور فیثا غورث نے یہ کہا ہے۔ان باتوں نے ان پر کچھ ایسا اثر کیا ہے کہ اب وہ مذہب پر ہنسی کرتے ہیں اور اس کو ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں۔مذہب کی حالت تو یوں بدتر ہوئی۔پھر سوسائٹی کی طرف دیکھو۔ادنیٰ سے اعلیٰ تک کو میں نے دیکھا ہے کہ جب ان سے کوئی بات پوچھو تو ان کے نزدیک گویا حرام ہے کسی مسلمان کا نام لینا۔وہ سوسائٹی کے اصولوں کو بیان کرتے ہوئے بڑے خوش ہوتے ہیں اور انگریزوں کے نام لیتے ہیں اور ان کی کتابوں کے حوالے دینے لگتے ہیں۔مختصر یہ کہ دنیا الگ معبود ہورہی ہے۔حکومت کی طرف سے جو اثر ہورہا ہے۔وہ ظاہر ہے۔بچے یوں مبتلا ہیں۔مدارس میں مذہبی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں اور مسلمان کر نہیں سکتے گورنمنٹ برداشت نہیں کر سکتی کہ ہر مذہب کے معلم مدرسوں میں اپنی گرہ سے قائم کرے۔کیونکہ مذہبی تعلیم دینا خود مسلمانوں کا اپنا فرض ہے اور اصل تو یہ ہے کہ خود مسلمانوں کی حالت ایسی ہے کہ جہاں جہاں انہوں نے بظاہر دینی تعلیم کا انتظام کیا بھی ہے وہاں بھی یہ حالت ہے کہ دینی تعلیم اصل مقصد نہیں بلکہ دنیوی علوم کے ساتھ برائے نام ایسا رکھا گیا ہے۔میں اپنے یہاں دیکھتا ہوں۔دوسرے مدرسوں کی نسبت یہاں دینیات کی طرف توجہ ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ لڑکے مسجد میں بھی انگریزی کتابوں کے مجھے یاد کرتے رہتے ہیں مجھے تعجب ہی ہوا ہے۔عربی اور قرآن شریف کی طرف وہ توجہ نہیں پاتا ہوں جو انگریزی اور اس کے لوازمات کی طرف ہے۔غفلت جس قدر مسلمانوں پر سایہ کئے ہوئے ہے۔اس کا تو ذکر ہی نہ پوچھو۔اعمال میں یہ