حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 317
حقائق الفرقان ۳۱۷ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ کی تکذیب ہوتی ہے۔سونا چاندی اور چاندی سونا نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کیس كَمِثْلِهِ شَيْئ (الشوری: ۱۲) کیا کوئی ہاتھی کے بچہ کو چوہا کہہ سکتا ہے؟ اور کیا ہوسکتا ہے کہ مکھی کے انڈے سے گھوڑا نکل آوے؟ ان امور کا سمجھنا آسان نہیں گو یہ بدیہی باتیں ہیں مگر ایک مز کی جب تک موجود نہ ہو وہ انسان کو اس قسم کے شرک سے نجات نہیں دے سکتا۔ایک وقت آئے گا کہ لوگ کہیں گے کہ کیا وفات مسیح کا مسئلہ بھی کوئی اہم مسئلہ تھا لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی اہمیت کس قدر ہے؟ ایک دنیا کو اس نے تباہ کر دیا ہے۔اور رب العالمین کے عرش پر ایک عاجز ناتواں انسان کو بٹھایا گیا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کے اسماء ، صفات اور افعال کے متعلق سچا علم بخشنا اُس شخص کا کام ہوتا ہے۔جو آیات اللہ کی تلاوت کرے اور اپنی قدسی تاثیر سے تزکیہ کرے اور سچی توحید پر قائم کرے۔جب تک مز کی نہ ہو یہ سمجھ میں نہیں آسکتا کہ اس جہان کا پیدا کرنے والا رب العلمین ایک ہے۔اور اس کا کوئی بیٹا نہیں جس کے بغیر نجات عالم ہی نہ ہوسکتی ہو جیسا کہ عیسائیوں نے مان رکھا ہے تعجب ہے کہ وہ خلق عالم تو اللہ تعالیٰ کی صفت مانتے ہیں۔پھر اس مخلوق عالم کو کیا مشکل تھا کہ نجات بھی دے دیتا؟ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ چونکہ عادل ہے اس لئے مخلوق کے گناہوں کو بحیثیت عادل ہونے کے بغیر سزا کے نہ چھوڑ سکتا تھا اور رحیم بھی ہے۔اس لئے بیٹے کو پھانسی دیا۔یہ کیا خوب عدل اور رحم ہے کہ گناہ گاروں کے بدلے ایک بے گناہ کو پکڑ لیا اور بے گناہ پر رحم بھی نہ کیا۔پھر اور بھی ایک تعجب ہے کہ یہودیوں کو نجات نہ ملی۔حالانکہ پہلے نجات کے وہی مستحق تھے جنہوں نے نجات کے فعل کی تکمیل کی کوشش کی یعنی صلیب دلوانے کی۔ان کا فعل تو گویا عیسائیوں کے اعتقاد کے موافق خدا کے ارادہ اور منشا سے توارد رکھتا تھا۔پھر وہ غضب کے نیچے کیوں رہے؟ پھر ہم پوچھتے ہیں کہ کیا مسلمانوں کو نجات ملی ، کیا مجوسیوں کو ملی ، کس کو ملی ؟ نجات تو پھر بھی محدود ہی رہی۔کیا فائدہ اس پھانسی سے پہنچا؟ اور پھر شیطان کا سر جب کچلا گیا تو