حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 309 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 309

حقائق الفرقان ۳۰۹ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ دلائل مل سکتے ہیں۔انفسی اور آفاقی دونوں قسم کے دلائل ہوتے ہیں یعنی اندرونی اور بیرونی دلائل۔اندرونی دلائل میں سے ایک عقل بھی ہے پھر اس کے ساتھ نقل کا پتہ لگا سکتے ہیں اور اسے سمجھ سکتے ہیں۔اگر اپنی عقل یا نقل کافی نہ ہو تو دوسرے عقیل اور فہیم لوگوں سے سن کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔بارہا میرے دل میں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ عقل مقدم ہے یا نقل اور کیا ان دونوں میں کوئی تعارض اور تناقض تو نہیں؟ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سماعی چیزوں پر بھی عقل فیصلہ دیتی ہے۔جیسے فرمایا گیا ہے تو كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي اصْبِ الشعیر اور پھر عقلِ صریح اور نقل صحیح میں ہرگز کوئی تعارض نہیں ہوتا۔دونوں کا ایک ہی فیصلہ ہے۔اور عقل مقدم ہے۔کیونکہ انسان مکلف نہیں ہوسکتا جب تک سوچنے اور سمجھنے نہ لگے۔پس اب ہم اس مدعی کے دعوے کے امتیاز کے لئے عقلی اور نقلی دلائل سے اگر فیصلہ چاہیں تو یقیناً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ واقعی یہ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔عقل سے پہلے ہمیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ کیا اس وقت کسی کے آنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ تو جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔خدا تعالیٰ کا مستقل اور اٹل قانون ہمیں بتاتا ہے کہ اس کی طرف سے ایسے وقت پر مامور آتے ہیں اور آنے چاہئیں۔اور پھر جب ہم نقل سے اس کا موازنہ کرتے ہیں تو نقل صحیح ہم کو بتاتی ہے کہ یہ وقت خدا کے ایک مامور کے آنے کا ہے۔تمام کشوف اور رویا اور الہام اس بات پر شہادت دیتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی کا زمانہ چودہویں صدی سے آگے نہیں۔ہرصدی پر مجدد کے آنے کا وعدہ بجائے خود ظاہر کرتا ہے کہ ایک عظیم الشان مجد داس وقت ہونا چاہیے اور چونکہ صلیبی فتنہ کثرت سے پھیلا ہوا ہے۔اس لئے اس صدی کے مجددکا نام بہر حال کا سر الصلیب ہی ہو گا۔خواہ وہ کوئی ہو۔اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں میں کا سر الصلیب جس کا نام رکھا گیا ہے۔وہ وہی ہے جس کو دوسرے الفاظ میں مسیح موعود کہا گیا ہے۔اور اسی طرح سے خدا تعالیٰ کے پاک کلام پر جب ہم نگاہ کرتے ہیں تو اور بھی صفائی کے ساتھ یہ بات کھل جاتی ہے کہ اُس نے وعدہ کیا کہ اسی اُمت میں سے خلفاء کا ایک سلسلہ اسی نہج اور اسلوب پر قائم ہوگا۔جیسے بنی اسرائیل میں ہوا اور