حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 303 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 303

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ کوئی مز کی نہ ہو تو تعلیمات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي یہ صدی جس میں میں ہوں۔بڑی خیر و برکت کی بھری ہوئی ہے۔اور حقیقت میں وہ صدی بڑی ہی بابرکت تھی کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس میں موجود تھے اور آپ کی وساطت سے لوگ تزکیہ سے متمتع ہوتے تھے پھر آپ نے فرمایا کہ دوسری صدی بھی اس پہلی کی طرح خیر و برکت والی ہو گی۔اور پھر تیسری پر بھی اس پہلی کا اثر پڑے گا۔مگر اس کے بعد جھوٹ پھیل جائے گا۔اب غور طلب یہ امر ہے کہ کیا قرآن شریف اس چوتھی صدی میں نہ رہا تھا جس میں جھوٹ کے پھیلنے کی آپ نے پیشگوئی فرمائی۔کیا تعامل اور حدیث ان میں نہ تھی؟ پھر وہ کیا بات ہے جو يَفْشُوا الكَذِبُ کہا؟ بات اصل یہی ہے کہ وہ مز کی ان میں نہ رہا۔مزکی کو اٹھے ہوئے تین سوسال گزر گئے۔بہت سے نادانوں نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ ہم مہدی یا مسیح یا امام کی کیا ضرورت رکھتے ہیں جبکہ دلائل سے نتائج تک پہنچ جاتے ہیں۔تو پھر امام کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے ان سے پوچھا ہے کہ اگر تمہیں امام کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو اتنا بتاؤ کہ کتاب کی موجودگی میں معلم کی کیا ضرورت ہوتی ہے؟ اگر کہو بولی کے لئے ضرورت ہے تو میں پھر کہتا ہوں۔اچھا بولی سمجھتے ہو؟ ایک عمدہ پڑھا ہوا آدمی جس نے قرآن کو خوب پڑھا ہے اور فرض کرو۔وہ قاری بھی ہو۔وہ اپنی جان پر تجربہ کر کے صاف صاف بتا دے کہ گھر میں لمبی قرآت کی نمازیں کس قدر پڑھتا ہے؟ اور باہر کس قدر؟ جس قدر جماعت میں التزام کیا جاتا ہے۔کیا گھر میں بھی ویسا ہی التزام کیا جاتا ہے؟ لیکن جب دیکھا جاتا ہے کہ باوصفیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب نماز پڑھائے تو امام کو چاہیے کہ مقتدیوں کا لحاظ کر لے۔ان میں کوئی ضعیف ہے۔کوئی بیمار ہے وغیرہ۔اس لئے ان کے لحاظ پر چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھے لیکن تنہائی میں نمازوں کو لمبا کرے۔مگر غور کر کے دیکھ لو کہ معاملہ بالکل اس کے برخلاف ہے اور قضیہ بالعکس ہے۔میں نے بہت ٹولا ہے اور دیکھا ہے کہ جبکہ یہ حدیث صحابہ تک پہنچتی ہے۔اور کذب کا کوئی احتمال نہیں رہتا تو پھر عمل درآمد کا نہ ہونا صریح اس امر کی دلیل ہے کہ ایک قوت اور کشش کی ضرورت ہے۔جو نہیں پائی جاتی۔