حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 302
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ کامیاب قوم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فیض صحبت سے ہوئیں۔اگر دنیا میں کسی اور نبی کی برکات اور فیوض اس قسم کے ہیں تو پھر ان کے ماننے والوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی قوم کا تزکیہ کیا تھا تو اس کے ثبوت کے لئے آج کوئی مز کی نفس پیش کرو! اور وں کو جانے دو۔یسوع مسیح کو خدا بنانے والی قوم ! اس کی خدائی کا کوئی کرشمہ اب ہی دکھائے۔مگر یہ سب مردہ ہیں۔جو ایک مردہ کی پرستش کرتے ہیں۔اس لئے وہ زندوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ! غرض دوسرا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ وہ آیات جو آپ نے پڑھ کر سنائیں۔اپنے عمل سے اور اس کی تاثیروں سے بتادیا کہ اس کا منشاء کیا ہے؟ منشاء بھی بتادیا اور عمل کرا کر بھی دکھا دیا۔کیونکہ کتاب کا پڑھنا اور اس کے مطالب و منشاء سے آگاہ کر دینا کوئی بڑا کام نہیں۔جب تک کوئی ایسی بات نہ ہو کہ عمل کرنے کی روح پیدا ہو جاوے۔کتاب کا پڑھنا بھی ضائع ہو جاتا ہے۔جب کہ کوئی سننے کے لئے تیار نہیں۔جب تک پڑھنے والا خود نہیں سمجھتا۔دوسروں کو سمجھا نہیں سکتا۔اس لئے نہایت ضروری ہے کہ پہلے تعلیمات صحیحہ آ جاویں۔پھر ان کو پہنچایا جاوے اور سمجھایا جاوے کہ کیسے عمل درآمد ہوتا ہے۔یا خود کر کے دکھایا جاوے۔یہ ضروری مرحلہ ہے۔غور کر کے دیکھو۔کہ کیا یہود کے سامنے ایک بڑا بھاری انبار کتابوں کا نہ تھا۔کیا مجوس کے پاس کتا بیں نہ تھیں۔کیا عیسائی اپنی بغل میں کتاب مقدس مارے نہ پھرتے تھے۔اور کیا ان میں عمدہ باتیں بالکل نہ تھیں؟ تھیں اور ضرور تھیں۔مگر ان میں اگر کچھ نہ تھا تو صرف یہی نہ تھا کہ ان پر عمل کرا دینے والا کوئی نہ تھا۔جب تک ایک روح اس قسم کی نہ آوے جو انسان کو مز کی بنا دے اس وقت تک انسان ان تعلیمات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۷ تا ۹) میں بیرونی مذاہب کو چھوڑ کر اندرونی فرقوں کی طرف توجہ کرتا ہوں۔کیا یہی قرآن شریف جو ہمارے سرور عالم سید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔اس وقت سنیوں ،شیعوں، خوارج اور اور بہت سے فرقوں کے پاس نہیں ہے؟ کیا واعظ ، امام ، قاری اور دوسرے لوگ ان میں نہیں ہیں؟ مگر سب دیکھیں اور اپنی اپنی جگہ غور کریں کہ کیا اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟ یہ سچی بات ہے کہ جب تک