حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 301
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ سکتا۔اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں ان پر کوئی لمبی بحث کروں۔میرا مطلب اور مدعا صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ دوسرا کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ ان کا تزکیہ کیا کہ ان کی حالت یہاں تک پہنچی۔يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا (بنی اسرائیل: ١١٠) وہ روتے ہوئے ٹھوڑی کے بل گر پڑتے ہیں اور ان کو فروتنی میں ترقی ملتی ہے اور يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا ( الفرقان: ۶۵) اپنے خدا کے سامنے سجدہ اور قیام میں رات ۱۷) کاٹ دیتے ہیں تتجافى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا (السجدة: ١٧) راتوں کو اپنی خواب گاہوں اور بستروں سے اٹھ اٹھ کر خوف اور امید سے اپنے رب کو پکارتے ہیں۔پھر یہاں تک ان کا تزکیہ کیا کہ آخر رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ - (المائدة:۱۲۰) کی سندان کومل گئی۔کسی بادی اور مصلح کی ایسی سچی تاثیر اور تزکیہ کا پتہ دو۔میں نے ہزاروں ہزار کتا ہیں پڑھی ہیں اور دنیا کے مختلف مذاہب کو ٹولا اور تحقیق کیا ہے۔میں دعوی سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی حیرت انگیز تبدیلی ، کوئی ہادی، پیغمبر ، نبی ، رسول، اپنی قوم میں نہیں کر سکا جو ہماری سرکارنے کی ہے۔اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكْ وَسَلِّمْ یہ چھوٹی سی بات نہیں۔یہ بہت بڑی عظیم الشان بات ہے۔اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور تاثیر افاضہ برکات کا ایک زندہ نمونہ موجود ہے جس سے آپ کی شان اور ہمت اور علومرتبت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ تیرہ سو سال کے بعد بھی اپنی تا شیریں ویسی ہی زبردست اور قومی رکھتا ہے جس سے ہم ایک اربعہ متناسبہ کے قاعدہ سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اس کی تاثیریں ابدی ہیں اور وہ ابدالآباد کے لئے دنیا کا ہادی اور رسول ہے۔اس وقت ہمارا امام زندہ نمونہ ہے ان برکات اور فیوض کا۔جس نے آکران فیوض اور برکات اور قدسی تا شیروں کا ثبوت دیا ہے۔جو صحابہ کی لے اللہ ان سے خوش ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو چکے۔