حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 297
حقائق الفرقان ۲۹۷ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ اُس اللہ نے (جس کی تسبیح زمین و آسمان کے ذرات اور اجرام کرتے ہیں۔اور ہر شئے جوان میں ہے۔وہ اللہ جو الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ہے ) اُمیوں میں ( عربوں میں ) ان میں ہی کا ایک رسول ان میں بھیجا جو ان پر اللہ کی آیتیں تلاوت کرتا ہے۔اور ان کو پاک صاف کرتا ہے۔اور ان کو الکتاب اور الحکمہ سکھاتا ہے۔اور اگر چہ وہ اس رسول کی بعثت سے پہلے کھلی کھلی اور خدا سے قطع تعلق کر دینے والی گمراہی میں تھے۔(احکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱/اگست ۱۹۰۲ صفحه ۱۰ تا۱۲ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ والوں میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور حمد کا ایک بین ثبوت ہے کیونکہ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ، اہل دنیا اس رشتہ سے جو انسان کو اپنے خالق کے ساتھ رکھنا ضروری ہے۔بالکل بے خبر اور نا آشنا تھے۔ہزاروں ہزار مشکلات اس رشتہ کے سمجھنے ہی میں پیدا ہو گئی تھیں۔اُس کا قائم کرنا اور قائم رکھنا تو اور بھی مشکل تر ہو گیا تھا۔کتب الہیہ اور صحف انبیاء علیہم السلام میں تاویلات باطلہ نے اصل عقائد کی جگہ لے لی تھی۔اور پھر ان کی خلاف ورزی مقدرت سے باہر تھی۔دنیا پرستی بہت غالب ہوئی ہوئی تھی۔ان کے بڑے بڑے سجادہ نشین احبار اور رہبانوں کو اپنی گدیاں چھوڑ نا محال نظر آتا تھا۔خدا تعالیٰ نے بڑے لوگوں کا ذکر کیا۔کیونکہ اس سے چھوٹوں کا خود اندازہ ہو سکتا تھا۔اگر ہم ایک نمبر دار کی حالت بیان کریں کہ ایک قحط میں اس پر فاقہ کشی کی مصیبت ہے تو اس سے چھوٹے درجہ کے زمیندار کا حال خود بخود۔معلوم ہو جاتا ہے۔قرآن شریف نے نہایت جامع الفاظ میں فرما دیا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الروم: ۴۲) جنگلوں اور سمندروں میں غرض ہر جگہ تری و خشکی پر فساد نمودار ہو چکا ہے۔وہ جو اپنے آپ کو ابراہیم کے فرزند کہلاتے تھے ان کی نسبت قرآن ہی نے خود شہادت دی ہے۔اكْثَرُهُمْ فَسقُونَ (التوبة : ۸) ان میں اکثر لوگ فاسق تھے۔اور یہاں تک فسق و فجور نے ترقی کی ہوئی تھی کہ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ ( المائدۃ: ۶۱) یہ اس وقت کے لکھے پڑھے علماء سجادہ نشین خدا کی کتاب مقدس کے وارث لوگوں کا نقشہ ہے کہ وہ ایسے ذلیل اور خوار ہیں۔جیسے