حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 293
حقائق الفرقان ۲۹۳ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ ہیں وہ اسی عدم تدبر ہی کی وجہ سے لگی ہیں۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس التزام پر عمیق نگاہ کی جاتی۔اور اس سورۃ پر تدبر ہوتا تو میں کہہ سکتا ہوں کہ بہت کم مشکلات ان لوگوں کو پیش آتیں۔غرض یہ سورۃ اپنے اندر لا انتہا حقائق اور عجائبات رکھتی ہے اور قیامت تک کے واقعات کو بیان کرتی ہے۔جن پاک الفاظ سے اس کو شروع کیا گیا ہے۔اگر کم از کم ان الفاظ پر ہی غور وفکر کی جاتی تو مجھے امید ہوتی ہے کہ اسماء الہی میں تو کم از کم ٹھوکر نہ لگتی۔وہ پاک الفاظ جن سے اس سورۃ کا شروع ہوتا ہے۔یہ ہیں يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّ وَسِ الْعَزِيزِ الحكيم - جو کچھ زمین و آسمان میں ہے۔وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔اس اللہ کی جو الملك ہے الْقُدوس ہے الْعَزِیز ہے اور الْحَکیم ہے۔تسبیح کیا ہوتی ہے؟ سورۃ بقرۃ کے ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کی زبان سے بتایا ہے۔نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِسُ لَكَ - (البقرۃ:۳۱) قرآن شریف میں جہاں تسبیح کا لفظ آیا یا ہے۔وہاں کچھ ایسے احسان اور انعام مخلوق پر ظاہر کئے ہیں جن سے حمد الہی ظاہر ہوتی ہے۔اور ان احسانات اور انعامات پر غور کرنے کے بعد بے اختیار ہو کر انسان حمد الہی کرنے کے لئے اپنے دل میں ایک جوش پاتا ہے ہمارے پاک سید و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فرمایا ہے۔سُبُحْنَ الَّذِى اسرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصا۔(بنی اسرائیل:۲) اور پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو ارشاد ہوتا ہے۔سبح اسم ربك الأعلى ( الاعلیٰ :۲) غرض جہاں جہاں ذکر آیا ہے خدا کے محامد، بز رگیاں اور عجیب شان کا تذکرہ ہوتا ہے تو اس سورۃ کو جو ٹیسبحُ لِلہ سے شروع فرمایا گیا ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محامد اور انعامات اور احسانات اور فضلِ عظیم کا تذکرہ یہاں بھی موجود ہے۔ہر چیز جو زمین اور آسمان میں ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔یہ ایک بدیہی اور صاف مسئلہ ہے۔نادان دہر یہ یا حقائق الاشیاء سے ناواقف سوفسطائی اس راز کو نہ سمجھ سکے تو لے ہم تو تیری تعریف کے ساتھ کہتے ہیں کہ تیری ذات پاک خوبیوں ہی خوبیوں والی اور سب عیبوں سے پاک ہے۔۔وہ پاک ذات ہے جو لے گیا اپنے پیارے محمد کو راتوں رات مسجد حرام سے اس اخیر مسجد تک۔