حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 292 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 292

حقائق الفرقان ۲۹۲ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ لوگوں کی جنہوں نے جھٹلا یا اللہ کی آیتوں کو اور بے جا کام کرنے والوں کی چال تو اللہ کی بتائی ہوئی نہیں۔تفسیر۔یہ ایک سورۂ شریفہ ہے اور ایسی مہتم بالشان سورۃ ہے کہ مسلمانوں میں جمعہ کے دن پہلی رکعت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد صحابہ، تابعین، تبع تابعین کے زمانہ تک سنائی جاتی تھی۔اور اب تک بھی پڑھی جاتی ہے۔اس سے تم اندازہ کر لو کہ کس قدر مسلمان گزرے ہیں اور آج تک کس قدر جمعے پڑھے گئے ہیں۔اور پھر اس سورہ شریف کو پڑھ کر نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا اتباع کیا ہے اور اس سورۃ کو جمعہ کے دن خصوصا پڑھ کر لوگوں کو آگاہ کیا ہے۔پھر جمعہ ہی کو نہیں بلکہ احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم جمعرات کو بھی عشاء کی پہلی رکعت میں اس کو پڑھا کرتے تھے۔پس ہر ہفتہ میں دو بار جہری قرآت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورۃ کو پہنچایا ہے۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر اہتمام اس سورۃ کی تبلیغ میں تھا۔پس مسلمانوں کو لازم ہے کہ وہ اس سورۃ شریف پر بہت بڑی غور وفکر کریں اور میں تمہیں پکار کر کہتا ہوں کہ افلا يتدبرون؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس التزام اور اہتمام پر نظر کر کے اس سورہ شریف پر خاص غور کی ہے۔یوں تو قرآن شریف میری غذا اور میری تسلی اور اطمینان کا سچا ذریعہ ہے اور میں جب تک ہر روز اس کو کئی مختلف رنگ میں پڑھ نہیں لیتا۔مجھے آرام اور چین نہیں آتا۔بچپن ہی سے میری طبیعت خدا نے قرآن شریف پر تدبر کرنے والی رکھی ہے۔اور میں ہمیشہ دیر دیر تک قرآن شریف کے عجائبات اور بلند پروازیوں پر غور کیا کرتا ہوں۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس قدر اہتمام اس کی تبلیغ میں کیا ہے۔اس نے مجھے اس سورہ شریف پر بہت ہی زیادہ غور اور فکر کرنے کی طرف متوجہ کیا اور میں نے دیکھا ہے کہ اس سورہ شریف میں قیامت تک کے عجائبات سے آگاہ کیا گیا ہے۔بڑے بڑے عظیم الشان مقاصد جو جمعہ میں رکھے گئے ہیں ان سے آگاہ کیا ہے۔میرا اپنا خیال نہیں نہیں ایمان بلکہ اس سے بھی بڑھ کر میں کہتا ہوں۔میرا یقین ہے اور میں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ وہ ٹھوکریں جو اس عظیم الشان جمعہ ( منجملہ ان کے مسیح موعود کے نزول کا مسئلہ بھی ہے ) میں لوگوں کو لگی