حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 289 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 289

حقائق الفرقان ۲۸۹ سُورَةُ الصَّفِ تھے۔عام بت پرستوں کی طرح الوہیت کو انسانیت سے ملا دیا تھا۔مسیح کو معبود بنارکھا تھا۔اسی کو کفارہ اپنے معاصی کا بنا رہے تھے۔نبی تعرب نے سب کچھ یاد دلایا اور سیدھا راستہ بتایا۔سوم۔یوحنا ۱۵ باب ۲۶، ۱۶ باب امیں ہے وہ روح میرے لئے گواہی دیگی۔اور تم بھی گواہی دیتے ہو۔حواری تو مسیح کو خوب جانتے تھے۔انہیں گواہی کی حاجت نہ تھی اور اوروں کو اس روح نے جو حواریوں پر اتری گواہی دی نہیں۔اور روح القدس نے کوئی گواہی دی ہے تو وہی گواہی ہے جو حواریوں نے دی۔اس روح القدس نے حواریوں سے علیحدہ ہر گز کوئی گواہی نہیں دی۔چہارم۔مسیح نے فرمایا۔میرا جانا بہتر ہے۔میں جاؤں تو وہ آوے۔یوحنا ۱۶ باب ۷۔صاف عیاں ہے مسیح کے وقت وہ روح نہ تھی۔حالانکہ روح القدس یوحنا بپتسمہ دینے والے کے وقت سے مسیح کے ساتھ تھی۔پنجم۔یوحنا ۱۶ باب سے میں ہے۔وہ سزا دے گی اور بالکل ظاہر ہے۔وہ روح جو حواریوں پر اتری بلکہ خود می اور مسیح والی روح سزا دینے کے لئے نہ تھی۔دیکھو یوحنا ۱۲ باب ۴۷ ششم۔یوحنا ۱۶ باب ۱۲ میں ہے۔مجھے بہت کچھ کہنا ہے پر اب تم برداشت نہیں کر سکتے۔وہ روح جس کی بشارت ہے سب کچھ بتائے گی۔یہ فقرہ بڑی سخت حجت عیسائیوں پر ہے۔کیونکہ جو روح القدس حواریوں پر اتر کی اس نے کوئی سخت اور نیا حکم نہیں سنایا۔تثلیث اور عموم دعوت غیر قوموں کی بلا ہٹ تو بقول عیسائیوں کے خود مسیح فرما چکے تھے۔اور پولوس کی کارستانیوں نے تو کچھ گھٹایا ہے بڑھایا نہیں۔ہاں اس روح القدس، اس روح الحق نے جسے فارقلیط کہیئے۔پر کلیف اس۔پاراکلیوس کیلئے، محمد کہیئے۔احمد بو لیئے۔عبداللہ اور آمنہ کے گھر جنم لے۔صد با احکام حلت و حرمت اور عبادات اور معاملات کے قوانین مسیحی تعلیم پر بڑھا دیئے۔فِدَاهُ أَبِي وَ أتى! ہفتم۔یوحنا ۱۶ باب ۱۳۔وہ اپنی نہ کہے گی اور یہی مضمون قرآن میں محمد بن عبد اللہ کی نسبت