حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 281
حقائق الفرقان ۲۸۱ سُورَةُ الْمُمْتَحِنَةِ سے سلوک اور انصاف کے برتاؤ سے اللہ تعالیٰ کبھی نہیں منع کرتا ۔ بلکہ ایسے منصف تو اللہ تعالیٰ کو محبوب و پیارے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں کی محبت و دوستی سے تم کو منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے مذہبی جنگ کی اور اسلام کے باعث تم سے لڑے اور تم کو جلا وطن کیا۔ اور تمہاری جلا وطنی میں تمہارے دشمنوں کے مددگار ہوئے ۔ اور جو ایسے دشمنوں سے پیار کریں وہی ظالم ہیں ۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۳۱، ۲۳۲) و تارک اسلام آریہ کے اس اعتراض کے جواب میں کہ قرآن کہتا ہے مشرک اور کافر نا پاک ہیں ان سے دوستی مت لگاؤ“ فرمایا منو دھیا نمبر ۲ شلوک نمبر ۱۱ ۔ جو شخص وید کے احکام کو بذریعہ علم منطق سمجھ کر وید شاستر کی توہین کرتا ہے۔ وہ ناستک یعنی کافر ہے۔ اس کو سادہ لوگ اپنی منڈلی سے باہر کر دیں۔ کافر کا لفظ بعینہ مطبوع نول کشور میں ہے۔ پھر ستیارتھ پرکاش سملاس نمبر ۱۰ صفحہ ۳۵۲ فقرہ نمبر ۶ میں ہے کبھی ناستک، شهوت پرست، دغا باز، دروغ گو، خود غرض، فریبی، حیله باز وغیرہ برے آدمیوں کی صحبت نہ کرے۔ آیت ( اہل کمال ) یعنی جو سچ بولنے والا دھرماتما اور دوسروں کی بہبودی جن کو عزیز ہے ہمیشہ ان کی صحبت کرنے کا نام سریشٹ آچار ( پاکیزہ چلن ) ہے۔ ستیارتھ سملاس صفحہ ۶ ستیارتھ صفحہ ۲۱۱ فقره ۵۳ - منو ۷ ۔ ۱۹۵ ، ۱۹۶ ۔ دشمن کو چاروں طرف محاصرہ کر کے رکھے اور اس کے ملک کو تکلیف پہنچا کر چارہ خوراک۔ پانی اور ہیزم کو تلف و خراب کر دیوے۔ دشمن کے تالاب شہر کی فصیل اور کھائی کو توڑ پھوڑ دیوے۔ رات کے وقت ان کو خوف دیوے اور فتح پانے کی تجاویز کرے او نادان ! کیا نا پاک اور بے ایمان اور منکر سے پاک اور ایماندار اور حق کے ماننے والے دلی تعلق پیدا کر سکتے ہیں؟ چیت را میوں، اگھوریوں، ناستکوں سے اب تجھے تعلق ہو سکتا ہے اور کیا سعید وشقی۔ برے بھلے ۔ دیوا سر میں سنگرام ( جنگ ) چاہیے۔ یا باہم پریم؟ اے سچائی سے دانستہ دشمنی کر نیوالے فلاح سے کوسوں بھاگنے والے! کبھی تو غور سے کام لے کیا یہ