حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 280
حقائق الفرقان ۲۸۰ سُوْرَةُ الْمُمْتَحِنَةِ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں بتایا ہے کہ کچھ عجب نہیں کہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تمہیں عداوت ہے۔ایک وقت دوستی پیدا کر دے اور اللہ اس بات پر قادر ہے۔اس کے متعلق کلام نبوت میں نہایت عمدہ نصیحت فرمائی۔آنحبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَّا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيْضَكَ يَوْمًا مَّا وَأَبْغِضُ بَغِيْضَكَ هَوْنًا مَّا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيْبَكَ يَوْمًا مَّا۔کسی سے دوستی کرو تو اس قدر نہ بڑھ جاؤ اور یہاں تک اسے اپنا راز دار نہ بنالو کہ اگر وہ تمہارا دشمن ہو جائے تو تمہیں نقصان پہنچا سکے اور اگر کسی سے دشمنی کرو تو اس قدر نہ بڑھو کہ اگر وہ تمہارا دوست بن جائے تو پھر تمہیں اپنی باتوں پر شرمسار ہونا پڑے۔کیا پاک تعلیم ہے۔دنیا میں ہزاروں مثالیں ایسی موجود ہیں۔بظاہر موجودہ صورت حالات نے یہی فتویٰ دیا ہے کہ اب ان شخصوں میں کبھی اتحاد نہیں ہوسکتا۔مگر معاً کچھ ایسے واقعات پیدا ہو گئے ہیں کہ وہ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ایک دوسرے کے جاں نثار بن گئے۔اس وقت اس نا کر دنی و نا گفتنی سلوکوں کی یاد کیا تکلیف پہنچاتی ہے۔پس انسان کو چاہیے کہ پہلے ہی معتدلا نہ روش اختیار کرے تا کہ بعد میں شرم یا ندامت پیش نہ آئے۔تنفیذ الا ذہان جلدے نمبر ۵۔ماہ مئی ۱۹۱۲ء صفحہ ۲۲۸) لَا يَنْهكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُوهُمْ وَ تُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ - إِنَّمَا يَنْهكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ اَخْرَجُوكُم مِّنْ دِيَارِكُمْ وَ ظَهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ - ترجمہ۔اللہ تم کو ان لوگوں سے نہیں روکتا جو تم سے لڑے نہیں دین کے مقدمہ میں اور نہ تم کو نکالا تمہارے گھروں سے کہ تم ان کے ساتھ احسان کرو۔اور ان کے حق میں انصاف کرو۔بے شک اللہ پسند کرتا ہے عدل وانصاف کرنے والوں کو۔تفسیر۔جو لوگ تم سے مذہبی عداوت پر نہیں لڑتے۔اور نہ انہوں نے تم کو جلا وطن کیا۔ان ترمذی باب ماجاء فی الاقتصاد فى الحب والبغض