حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 267
۲۶۷ سُوْرَةُ الْمُجَادَلة حقائق الفرقان يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَ تَنَاجَوا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِى إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطِنِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ امَنُوا وَ لَيْسَ بِضَارِهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ ۖ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ایمان والو! ہم جانتے ہیں کہ تم کوئی منصوبہ کرتے ہوا مجمنیں بناتے ہومگر یادر ہے کہ جب کوئی انجمن بناؤ تو گناہ، سرکشی اور رسول کی نافرماں برداری کے بارے میں نہ ہو۔بلکہ نیکی اور تقویٰ کا مشورہ ہو۔بنی اسرائیل جب مصر کی طرف گئے تو پہلے پہل ان کو یوسف علیہ السلام کی وجہ سے آرام ملا۔پھر جب شرارت پر کمر باندھی تو فراعنہ کی نظر میں بہت ذلیل ہوئے۔مگر آخر خدا نے رحم کیا اور موسی علیہ السلام کے ذریعہ سے ان کو نجات ملی۔یہاں تک کہ وہ فاتح ہو گئے۔اور وہ اپنے تئیں نَحْنُ ابناء الله و احباة سمجھنے لگے۔لیکن جب پھر ان کی حالت تبدیل ہو گئی۔ان میں بہت ہی حرامکاری شرک اور بد ذاتیاں پھیل گئیں تو ایک زبر دست قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان پر مسلط کیا۔T ( بدر جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۳) -١٢ - يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجْلِسِ فَأَفْسَحُوا يَفْسَح اللهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيلَ انْشُزُوا فَانْشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَتِ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ - ترجمہ۔اے ایماندارو! جب تم سے کہا جائے کہ کھل کر بیٹھو مجلسوں میں تو کھل کر بیٹھ جایا کرو۔اللہ تمہارے واسطے کشائش دے گا اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو اللہ اُن کے درجے بلند کرے گا جنہوں نے مانا اللہ اور رسول کا حکم تم میں سے اور جن کو علم دیا گیا ہے ( قرآن اور سنت کا ) اُن کے تو بڑے ہی درجے ہیں اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔تفسیر۔اللہ ایمان داروں اور پاک علوم کے عالموں کو ہی درجات پر پہنچا تا ہے۔تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۳۳)