حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 259
حقائق الفرقان ۲۵۹ سُوْرَةُ الْحَدِيدِ باتوں میں ان چیزوں کو باہمی اختلاف ہوتا ہے ان باتوں میں جو جو احکام ہوں گے ان میں بھی اختلاف ہو گا۔مثلاً حیوانات و نباتات جسمیت اور نمو میں باہم شریک ہیں۔مگر حیوانات تحرک بالا رادہ، خورد، نوش وغیرہ اوصاف میں نباتات سے ممتاز ہیں۔پس حیوانات و نباتات کو جسمیت اور نمو کے احکام میں بھی شرکت ہوگی۔مگر خورد ، نوش ، جماع وغیرہ احکام میں حیوانات اور نباتات میں اشتراک ہو گا بلکہ حیوانات کو ان باتوں اور ان کے احکامات میں امتیاز و خصوصیت ہوگی۔اسی طرح انسان و حیوان کے درمیان کھانے پینے ، جماع کی خواہش میں جس قدر اشتراک ہے اسی قدر کھانے، پینے، جماع کے احکام میں بھی اشتراک ہوگا۔مگر انسان، ترقی، سطوت، جبروت، نئے علوم وفنون کی تحصیل اور نئے علوم کو اپنے ابنائے جنس کے سکھلا دینے میں حیوان سے ممتاز ہے۔ان اشیاء کے احکام میں بھی حیوان سے ممتاز ہو گا۔ایسے ہی بادی رسولوں اور عامہ آدمیوں میں گو عام احکام بشریت کے لحاظ سے اشتراک ہوتا ہے۔رسولوں کا گروہ بخلاف اور عام آدمیوں کے البی مہم مصلح قوم، موید من اللہ ہوتا ہے۔اس لئے عام احکامِ بشریت میں اگر چہ عامہ بشر سے اشتراک رکھتے ہیں۔لیکن اپنی خصوصیت رسالت، نبوت، اصلاح قوم کے احکام میں عامہ خلائق سے ضرور جدا ہوتے ہیں۔بلاتشبیہ ایک مفتوح ملک کی رعایا کے ساتھ ایک فاتح اور حکمران گورنمنٹ کا سپہ سالار یا مجاز حاکم اپنی گورنمنٹ کے حکم سے کوئی معاہدہ کرے اور اس رعایا کو اپنی گورنمنٹ کے احکام سناوے۔تو اگر اس مفتوح رعایا کے لوگ ان معاہدات اور احکام کی تعمیل نہ کریں۔تو ضر وروہ رعایا اس گورنمنٹ کی مجرم، باغی ، غدار، نافرمان ٹھہرے گی۔مگر وہی سپہ سالار اور گورنمنٹ کا ماتحت حکمران اس رعایا کو کوئی اپنا ذاتی کام بتا وے۔اور اپنے طور پر ان رعایا میں سے کسی سے کوئی معاہدہ کرے اور اس رعایا کا آدمی اس سپہ سالار اور اس حاکم کی بات نہ مانے یا معاہدہ کا خلاف کرے تو یہ شخص جو اس سپہ سالا ر اور گورنمنٹ کے ماتحت حکمران کے معاہدہ اور حکم کا مخالف ٹھہرا ہے۔گورنمنٹ کی بغاوت کا مجرم نہ ہوگا کیونکہ پہلی قسم میں اس سپہ سالار اور حاکم کے احکام فاتح گورنمنٹ کے احکام ہوا کرتے ہیں۔اور اس سپہ سالار کی زبان فاتح گورنمنٹ کی زبان، اس کی تحریر فاتح گورنمنٹ کی تحریر ہوا