حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 258
حقائق الفرقان ۲۵۸ سُوْرَةُ الْحَدِيدِ صفحہ نمبر ۳۰ میں لکھا ہے۔وو ارجن سرشٹی کا آد ( ابتدا )۔اور مذہ (اوسط )۔اور انت (آخر) میں ہوں۔ودیاؤں (علم) میں برہم ودیا ( عرفان الہبی ) چر چا ( تذکرہ) کرنے والوں میں یاد میں ہوں“ مرہ کا لفظ جس کے معنے اوسط کے ہیں۔بہت ہی توجہ کے قابل ہے۔صرف پر میشر ہی یہ تمام دنیا ہے۔جو کچھ ہو چکا ہے وہی تھا جو کچھ ہو گا وہی ہوگا“ (رگ وید بھاگ ۲ سکت ۹۰) منتر دوم شین اچارج کہتے ہیں ”جو کچھ گزشتہ زمانوں میں تھا۔پر میشور تھا۔جو کچھ اب موجود ہے پر میشر ہے۔آدمیوں کے جسم جواب موجود ہیں اور گزشتہ زمانوں میں زندہ تھے۔تمام پر میشور ہیں اور تھے۔جو کچھ آئندہ زمانوں میں ہو گا وہ بھی پر میشر ہے وہ دیوتاؤں کا دیوتا ہے۔اس چیز سے جو لوگ کھاتے ہیں وہ نشو نما پاتا ہے اور دنیا بھی اس کے ساتھ بڑھتی ہے۔مایا کے سبب چیزیں مختلف نظر آتی ہیں۔لاکن دراصل ہر ایک شئی پر میشر ہے۔برہم کے تین حصہ اس دنیا سے پرے ہیں۔اس کا ایک حصہ تمام دنیا ہے۔یہی تمام ہے جو اس کے ایک حصہ سے بنا ہے۔منتر ۴ “ پھرسنو! تنقیہ دماغ کا مصنف آریہ کیا کہتا ہے:۔بموجب قرآن کے صرف اس قدر تو حید ہے کہ پیدا کرنے والا ایک ہے دو نہیں ہیں مگر بمقابلہ خدا کے دوسری موجودات مخلوق کے وجود سے انکار نہیں کیا گیا۔گو اس نے ہی گھڑے پیدا کئے ہوں۔مگر اس کے مقابلہ میں اسے علیحدہ موجود ہونا اور تا ابد موجود رہنا ، اہل اسلام کے یہاں ثابت ہے۔جب اسے علیحدہ دوسری چیز کا موجود ہونا ثابت و ظاہر ہے۔تو پھر تو حید کہاں؟ یہ تو دُوئی ہوگئی تنقیه صفحه نمبر ۲۸۔اب میں ان دونوں آیات کا مطلب سناتا ہوں۔مگر بیان شروع کرنے سے قبل مختصرسی تمہید کا لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔جب دو یا کئی چیزیں با ہم کسی امر میں شریک ہوتی ہیں اور کسی امر میں مختلف ہوتی ہیں تو ظاہر ہے کہ امر مشترک کے احکام میں ان مشتر کہ اشیاء کو اتحاد ہو گا۔اور جن جن