حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 257
حقائق الفرقان ۲۵۷ سُوْرَةُ الْحَدِيدِ هُوَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَهُ شَيْئ وہی پوشیدہ ہے۔سوا اس کے کوئی چیز نہیں ہے۔یہ تفسیر خوب واضح کرتی ہے کہ زبانِ عرب میں ان الفاظ کا مفہوم اور مراد یہ ہے۔اور وہی ( فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحه ۱۳۵) معتبر ہے۔میں نے یہ دو آیتیں قائلین وحدۃ الوجود سے استدلال میں سنی ہیں۔اوّل - وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ - (الذاريات : (۲۲) :- دوسری آیت شریف۔هُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ مگر جب ان سے دریافت کیا گیا کہ جس چیز کے اول و آخر وہ ہو۔وہ چیز آپ کیا ہوئی ؟ اور جس چیز کا ظاہر و باطن وہ ہوا۔وہ خود کیا ہوئی ؟ تو عوام مدعیان وحدۃ الوجود ساکت رہ جاتے ہیں۔ہاں البتہ وید میں مسئلہ وحدۃ وجود کی بنیاد مستحکم رکھی گئی ہے۔اس لئے کہ آریہ ورت میں وحدت وجود کے مسئلہ کو ویدانت کہتے ہیں۔اور خود یہ لفظ ہی ظاہر کئے دیتا ہے کہ اس کی اصل کہاں سے ہے۔اور حضرت مرزا صاحب کے طحہ حق اور سُرمہ چشم آریہ کے جواب میں ایک میرٹھ کے آریہ صاحب جو چھاؤنی نصیر آباد ضلع اجمیر کی عدالت کے سر رشتہ دار ہیں۔اپنی کتاب ”تنقیہ“ میں فرماتے ہیں۔وہی پر آتما اپنی اچھا سے بہو روپ ہو گیا۔یعنی رب شکلوں میں ظاہر ہوا۔یہ تیسرے اپنشد کا بچن ہے۔“ (انتہی تنقیہ نمبر ے) پھر صفحہ نمبر ۸ میں کہا ہے۔اس تمام عالم مجسم کا ظہور نمت کا رن پر کرتی یعنی علت فاعلی پرمیشر سے ہے (انبی ) پھر صفحہ نمبر ۲۷ میں لکھا ہے۔یہ بھی واضح ہو کہ ویدانتی یعنی آریوں کے فلاسفر پر میشر کو واحد الوجود مانتے ہیں یعنی جو کچھ ہے اللہ ہی اللہ ہے۔ماسوا کچھ نہیں۔لے اور خود تمہارے نفسوں میں بھی۔تو کیا تم دیکھتے نہیں؟