حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 256
حقائق الفرقان ۲۵۶ سُوْرَةُ الْحَدِيدِ زمانہ ہی نہیں۔یہ زمانہ جو ہر وقت فنا ہوتا رہتا ہے۔اس کے اول۔آخر خدا ہی ہے۔ہر آن میں خدا ہی ہمارے ساتھ ہے۔یہ معنی سوائے قرآن کریم کے اور کسی کو نہیں آتے۔( بدر۔کلام امیر جلد ۱۳ نمبر ۱۱،۱۰ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۱۳ء صفحه ۲۷) مصنف الجواہر القرآن نے جو ایک عیسائی ہے آیت هُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ پر یہ اعتراض کیا ہے کہ کو کہا ہے“ قرآن نے خدا کا نام ظاہر یا تو صرف قافیہ بندی کے لئے لیا ہے یا ویدانتیوں کی مث پر مخلوق کے جواب میں فرمایا: اس آیت میں پہلا نام الاول ہے اور دوسرا نام الآخر۔یہ دونوں نام یسعیاہ ۴۴ باب ۶ میں موجود ہیں۔رب الافواج فرماتا ہے ” میں اول اور آخر ہوں اور میرے سوا کوئی خدا نہیں، تیسرا نام اس آیت میں الظاہر اور چوتھا الباطن ہے۔ظاہر کے معنی لغت عرب میں غالب اور بڑے زور والے کے ہیں۔اور ظاہر اونچے کو بھی کہتے ہیں اور باطن مخفی کو۔اب دیکھو ٹھیک انہیں الفاظ کے مرادف معنی۔ایوب ا باب ۸۔وہ تو آسمان سا اونچا تو کیا کر سکتا ہے۔اور پاتال سے نیچے ہے تو کیا جان سکتا ہے۔اور حدیث صحیح میں اس آیت کی تفسیر خود انصح العرب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔هُوَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَهُ شَيئ یعنی جب مخلوق میں سے کسی موجود چیز کو دیکھو تو خدائے تعالیٰ کی ذات بابرکات اُس موجود مخلوق سے پہلے موجود ہے۔مخلوقات سے کوئی ایسی چیز نہیں جو خدا سے پہلے ہو۔هُوَ الْأَخِرُ لَيْسَ بَعْدَهُ شَیئ یعنی ہر چیز کی فنا اور زوال کے بعد اُس کی ذات پاک موجود ہے۔هُوَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَهُ شَیئ یعنی ہر چیز سے اوپر اور غالب وہی ہے۔اُس سے اوپر اور غالب کوئی شے نہیں۔