حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 242 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 242

حقائق الفرقان ۲۴۲ سُوْرَةُ الرَّحْمنِ حصول مراد نہیں ہے۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوقَ الا باللہ بلکہ ایسا تو کبھی میرے وہم و گمان میں بھی نہیں آیا اور نہ ہی ایسی میری کبھی اپنی ذات یا اپنی اولاد کے واسطے خواہش ہوئی ہے۔عام طور پر لوگوں کے دلوں میں آج کل علم سے بھی ظاہری علم مراد لیا گیا ہے۔اور ہزار ہا انسان ایسے موجود ہیں کہ جن کو دن رات یہی تڑپ اور لگن لگی ہوئی ہے کہ کسی طرح وہ بی۔اے یا ایم۔اے یا ایل۔ایل بی کی ڈگریاں حاصل کر لیں۔ان لوگوں نے اصل میں ان علوم کی دُھن ہی چھوڑ دی ہے۔جن پر سچے طور پر علم کا لفظ صادق آ سکتا ہے۔پس ہماری مراد ترقی علم سے خدا کی رضا مندی کے علوم اور ا خلاق فاضلہ سیکھنے کے علوم۔وہ علوم جن سے خدا کی عظمت اور جبروت اور قدرت کا علم ہو اور اس کے صفات، اس کے حسن و احسان کا علم آ جاوے۔غرض وہ گل علوم جن سے تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ کا علم آ جاوے۔مراد ہیں۔- الشَّيْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ - الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۸ مورخه ۱۸ را پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۱۴) ترجمہ۔سورج و چاند حساب سے گردش کر رہے ہیں ( یعنی اپنے محور پر تو حساب کو باہم نہ ملا نا چاہئے )۔تفسیر۔تو رات میں کچھ شمسی حسابات ہیں، کچھ قمری دونوں میں غور کرو۔نبی کریم کی پیدائش کا وقت مل جائے گا۔تفخیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۳) انسان کے الفاظ میں کمزوری ہے۔انسان کے فلسفے میں کمزوری ہے۔جوں جوں زمانہ نئے نے علوم دریافت کرتا ہے۔وہ اپنے حالات، اپنی اصطلاحات کو بدلتا جاتا ہے۔لیکن خدا کے کلام میں اس قسم کی کمزوری نہیں ہوتی۔بلکہ جوں جوں سائنس ترقی کرتی ہے۔اس کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔دیکھئے انسان کے جبر و اختیار پر بعض علماء نے بڑی بحث کی ہے۔اور اس میں کوئی فیصلہ گن بات نہیں کہہ سکے۔قرآن مجید نے ان الفاظ کو اختیار ہی نہیں کیا بلکہ ان کی بجائے استطاعت ، مقدرت اور تمکن فرمایا اور اعجاز و معجزے کے بدلے سلطان و آیات رکھا۔اسی طرح حُسبان ایسا لفظ ہے کہ