حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 234 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 234

حقائق الفرقان ۲۳۴ سُوْرَةُ النَّجْمِ میں یہ موجود نہیں اور ہو کیسے؟ قرآن کریم کی شان اس سے اعلیٰ وارفع ہے کہ اس مجموعہ توحید میں ایسا مشرکانہ مضمون ہو۔اب حقیقت میں قرآن پر کوئی اعتراض نہ رہا۔“ مکذب - " مفصل حال اس کا معالم جلالین بیضاوی معتمد میں ذکر ہے“ مصدق نے ان تفاسیر کی طرف رجوع کیا مگر ان میں یہ لکھا پایا جو ناظرین کے عرض خدمت ہے۔بیضاوی نے اس واہی قصہ کو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فقرہ تِلْكَ الْغَرَانِيقُ العلى۔۔۔الخ پڑھا تھا لکھ کر کہا ہے۔وَ هُوَ مَرْدُودُ عِنْدَ الْمُحَقِّقِيْنَ اور یہی بات معالم کے حاشیہ پر مرقوم ہے۔تفسیر فتح البیان میں لکھا ہے تِلْكَ الْغَرَانِيقُ العُلى۔۔۔الخ کی نسبت یہ کہنا کہ رسول اللہ نے سورہ نجم میں اس کو پڑھا صحیح نہیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں۔لَمْ يَصِحَ شَيْءٍ مِنْ هَذَا وَلَا ثَبَتَ بِوَجْهِ مِنَ الْوُجُوْهِ وَمَعَ عَدَمِ عِيَّتِهِ بَلْ بُطْلَانُهُ فَقَدْ دَفَعَهُ الْمُحَقِّقُونَ بِكِتَابِ اللهِ سُبْحَانَهُ حَيْثُ قَالَ اللهُ تعالى ( وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ وَقَوْلُهُ تَعَالَى (وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى) وَقَوْلُهُ عَنِ تَعَالَى وَلَوْلَا أَن ثَبَّتَنَكَ لَقَدكِدْ تَ تَرَكَنُ إِلَيْهِمْ) فَنَفَى الْمُقَارَبَةَ لِلرُّكُونِ فَضْلًا الرُّكُونِ قَالَ الْبَزَّارُ هَذَا حَدِيثُ لَا نَعْلَمُهُ يُروى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادٍ مُتَصِلٍ قَالَ الْبَيْهَقِيُّ هَذِهِ الْقِصَّةُ غَيْرُ ثَابِتَةٍ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ ثُمَّ أَخَذَيَتَكَلَّمُ أَنَّ رُوَاةٌ هَذِهِ القِصَّةِ مَطْعُونُونَ فِيهِمُ۔اس قسم کی کوئی بات بھی کسی وجہ سے ثابت اور صحیح نہیں ہوئی۔اگر چہ خود ہی اس کی عدم صحت اور اس کا بطلان ظاہر ہے مگر محققین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہی تو اسے رو کر رہی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اگر یہ (نبی) ہماری نسبت کوئی جھوٹی بات لگا تا تو ہم اس کا دہنا ہاتھ پکڑتے۔پھر ہم اس کی رگِ حیات کو کاٹ ڈالتے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ نبی اپنی طرف سے نہیں بولتا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر ہم تجھ کو مضبوط نہ رکھتے تو تو ان کی جانب قریب تھا کہ مائل ہو جا تا۔اب یہ آیت مقاربت میلان کی بھی نفی کرتی ہے چہ جائیکہ آنجناب کا میلان ان کی جانب ہوتا۔بزار کہتے ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس حدیث کو متصل اسناد سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہو۔بیہقی کہتے ہیں۔یہ قصہ نقل کے قانون کے لحاظ سے ثابت نہیں ہوا۔پھر بیہقی نے یہ کلام کیا ہے کہ اس قصہ کے راویوں میں طعن کیا گیا ہے۔