حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 233
حقائق الفرقان ۲۳۳ سُورَةُ النَّجْمِ آج جہازی مسافر قطب نما سے سمت کو قائم کر لیتے ہیں۔ اندھیری راتوں میں وہ انجم گو یا بدرقہ کا کام دیتا تھا۔ قرآن کریم نے جہاں النجم کے فائدے بیان کئے ہیں ۔ وہاں یہ بھی فرمایا ہے۔ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ (النحل : ۱۸) اور یہ بھی بالکل ظاہر کہ النجم اگر سمت الراس پر واقع ہو تو اس سے : مسافروں کو راستہ کا پتہ نہیں لگ سکتا۔ اس انجم کا مشرق یا مغرب میں ہونا سفر والوں کے لئے ضروری ہے۔ عربی زبان میں ھوی چڑھنے اور ڈھلنے دونوں کے معنی دیتا ہے۔ پس اس رکوع کی پہلی آیت وَ النَّجْمِ إِذَا هَوَی کے معنے یہ ہوئے۔ قسم ہے انجم (ثریا) کی جبکہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف ہو۔ باری تعالیٰ رات کے اندھیروں میں جنگلوں اور راستوں کے چلنے والوں کو فرماتا ہے۔ لوگو! تمہارے لئے تم کو منزل مقصود تک جانے کے واسطے اور جسمانی سمتوں کے سمجھنے کی خاطر ہم نے انجم کو تمہارے کام میں لگایا۔ تو کیا جسمانی ضرورتوں سے بڑھ کر تمہاری ضرورت کے واسطے اور روحانی منزل مقصود تک پہنچ جانے کے واسطے تمہارے لئے کوئی ایسا مصلح اور کوئی ایسا ریفارمر سلیم الفطرت سچا ملہم نہ ہوگا جو تم کو تمہارے روحانی اندھیروں اور اندرونی ظلمتوں کے وقت راہنمائی کرے۔ فانی اور چند روزہ تکلیف جسمانی راہوں کے نہ سمجھنے میں جب تمہارے گردو پیش کے نشانات تم کو راہنمائی نہیں کرتے تو ہمارے روشن اور بلند ستاروں سے ضرور تمہاری دستگیری کی جاتی ہے۔ پھر جب تمہارے فطری قومی اور تمہاری روحانی اور ایمانی طاقتوں پر تمہاری جہالتوں، تمہاری نادانیوں، تمہاری بد رسومات اور عادات اور حرص اور ہوا اور بے جا خود پسندی اور ناجائز آزادی کی اندھیری رات آ جاتی ہے اور اس وقت تم ابدی نجات کی منزل تک پہنچنے سے حیران و سرگردان ہو جاؤ تو کیا ہماری رحمت خاص اور فضلِ عام سے کوئی روشنی بخش اور رہنما سیارہ نہ ہوگا ؟ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۶۳ تا ۱۶۵) تکذیب براہین احمدیہ کے مصنف نے سورہ نجم کے حوالہ سے یہ لغو فقرہ تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُر تجی اعتراض کرنے کو لکھا۔ اس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا۔ اسلام کے مختلف فرقے دنیا میں موجود ہیں۔ سب کے پاس قرآن ہے۔ مگر تعجب ہے کہ کسی لے اور انجم سے وہ راہ پاتے ہیں۔