حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 228 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 228

حقائق الفرقان ۲۲۸ سُوْرَةُ النَّجْمِ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَى - (الانفال: ۱۸) وغیرہ آیات کریمہ میں ہے۔والا وہ تو بشر ہوتے ہیں۔اور اپنی بشریت اور عجز اور فقر کو ائماً انا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف: )۔وَإِنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ (الانعام :۵۱)۔فرما کر ثابت کرتے ہیں اللهم اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم باری تعالیٰ کی گرامی اور مقدس ذات پاک سے ان کی ذات کو دُنو اور تقرب ہوتا ہے اور ان کی کمان اللہ تعالیٰ کی کمان سے بالکل وحدت پیدا کرتی ہے۔اسی عمدہ مضمون کو قرآن کریم نے اس سورہ والنجم میں بایں کلمات فرمایا ہے۔ثُمَّ دَنَا فَتَدَلى - فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ ادنی - اب حسب بیان سابق ضرور تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تقرب اور اس کی بارگاہ معلی میں عبودیت تامہ کے ثبوت کے بعد روح حق اور روح القدس کا فیضان ہوتا۔اس لئے جناب رسالت مآب کی اعلیٰ درجہ کی عبودیت اور فرماں برداری اور محب اللہ اور بغض في اللہ کے نتیجہ اور فیضان کا بیان ہوتا ہے۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۶۷ تا ۱۶۹) ۱۱ تا ۱۳ - فَاَوْحَى إِلى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى - مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأى - افَتُمُرُونَهُ عَلَى مَا يَرى - ترجمہ۔پھر اللہ نے وحی بھیجی اپنے بندے کی طرف جو وحی بھیجی ( یعنی قرآن شریف )۔جو کچھ اُس نے دیکھا اس کے دل نے اس میں مغالطہ نہیں کھایا۔تو کیا تم اس سے اس دید میں جھگڑتے ہو جو اُس نے دیکھا۔تفسیر۔پھر اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دل میں ان عظیم الشان اسرار ( قرآن کریم ) کو ڈالا۔اس دل نے جو دیکھا۔خوب دیکھا ( یعنی مغالطہ نہ کھایا) کیا تم اس کی دید پر جھگڑتے ہو۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۷۰ حاشیہ) لے اور تو نے نہ پھینکا جب پھینکا لیکن اللہ نے پھینکا۔۲ میں بھی تو تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہوں۔پھر نزدیک ہوا اور پاس کھڑا ہوا۔پس دو کمانوں کا ایک قاب یا اس سے بھی قریب تر ہو گیا۔