حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 227
حقائق الفرقان ۲۲۷ سُوْرَةُ النَّجْمِ یا در ہے۔یہی تو حید اور تثلیث کا مسئلہ تھا جس کو عیسائی نہ سمجھ کر شرک میں گرفتار ہو گئے اور یہی وہ بھید ہے جس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء اور رسل اور اولیاء کے باہمی تعلق کے باعث فیضان روح کا پتہ لگ سکتا ہے۔طالب صداقت سچی ارادت سے چند روز بحضور مرزا صاحب حاضر ہوکر استقلال وصبر سے منتظر ہو اور دیکھ بھی لے۔عرب کا دستور تھا۔جب دو آدمی باہم اتحاد پیدا کرتے اور معاہدہ کر لیتے تو دونوں اپنی اپنی کمانیں اس طرح ملاتے کہ ایک کی کمان کی لکڑی دوسری کی کمان کی لکڑی سے از ابتدا تا انتہا ایک سرے سے دوسرے سرے تک ملائی جاتی اور ایک کمان کی تار دوسری کمان کی تار سے ملائی جاتی تب دونوں قوسوں کے دو قاب ایک قاب کی شکل دکھلائی دیتے۔پھر دو کمانوں کو اس طرح ملا کر دونوں معاہدہ کنندے ایک تیر۔ان دونوں کمانوں مگر اب ایک ہو گئی ہوئی کمان میں رکھ کر چھوڑتے۔اور یہ رسم عرب کی اس امر کا نشان ہوتا تھا کہ اس وقت کے بعد ایک کمان والے کا دوست دوسرے کمان والے کا دوست ہوگا اور ایک کا دشمن دوسرے کا دشمن قرار پائے گا۔اسی طرح انبیاء اور رسولوں کی پاک ذات کا خاصہ اور ان کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ پاک گروہ اور ان کے اتباع مگر گرویدہ اتباع الحب لله اور الْبُغْضُ فِی اللہ میں منفرد ہوتے ہیں۔اپنے ہر ایک اعتقاد اور قول اور فعل میں حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کی رضامندی کو مقدم رکھتے ہیں۔اسی کے بلائے سے بولتے اور اسی کے چلائے سے چلتے ہیں۔ان کا رحم اور ان کا غضب اللہ تعالیٰ کا رحم اور اللہ تعالیٰ کا غضب ہوتا ہے۔ایسی وحدت و اتحاد کے باعث ان کے ہاتھ پر بیعت اور اقرار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت اور اسی سے اقرار ہوتا ہے اور اسی اتحاد کا بیان آیات ذیل میں ہے۔إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ - (الفتح: 11) - مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله - ( النساء: ۸۱) ل یقیناً جو لوگ تجھ سے ہاتھ ملاتے ہیں وہ اللہ سے ملاتے ہیں۔اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔اور جس نے اس رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔