حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 223
حقائق الفرقان ۲۲۳ سُوْرَةُ النَّجْمِ پہنچنا ہمیشہ معلومہ مقدمات سے ممکن ہے۔نہایت باریک فلسفی کا پتہ عامہ قواعد سے لگتا ہے۔جانتے ہو۔کسی انسان کو انسان کامل یقین نہ کرنے کے تین سبب ہوتے ہیں۔اول یہ کہ تم اس شخص کے حالات سے پورے واقف نہیں جس نے بادی اور انسانِ کامل ہونے کا دعوی کیا۔دوم یہ کہ وہ شخص جس نے ہادی اور انسانِ کامل ہونے کا دعولی کیا اُسے علم صحیح نہ ہو۔سوم یہ کہ باوجود علم صحیح رکھنے کے اس کی عادت ایسی ہو کہ علم صحیح پر عمل نہ کرے۔سو اس رسول خاتم الرسل محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ان تینوں عیوب میں سے ایک بھی نہیں۔مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوى (النجم : ۳)۔یعنی نہ بھولا اور نہ بے علمی سے کام کیا تمہارے ساتھ رہنے والے نے اور نہ کبھی علیم صحیح کے خلاف کرنے کا ملزم ہوا۔پہلی وجہ عدم تسلیم کا جواب تو یہ ہے کہ چالیس برس کامل کے تجربہ سے دیکھ لو۔یہ شخص محمد امین ( بأبي وأمي صلی اللہ علیہ وسلم) بھلا اس میں کوئی عیب رکھنے کی بات ہے۔دوسری وجہ کا جواب یہ ہے کہ مَاضَلَّ جس کے معنے ہیں کبھی نہ بھولا۔ہمیشہ تمہاری اور اپنی بہتری کی جوتد بیر نکالی وہ تدبیر آ خرمثمر ثمرات نیک ہوئی۔تیسری وجہ کا جواب دیا۔وَمَا غَوى (النجم : (۳)۔چالیس برس تمہارے ساتھ رہا اور تمہارا صاحب کہلایا مگر کبھی کسی بد عملی کا ملزم ہوا؟ ہر گز نہیں۔چالیس برس تک جس نے راستی اور راست بازی کا برتاؤ کیا۔جس کے ہاتھ پر صدیق نے بھی بیعت کی۔جس کے سینکڑوں مریدوں میں سے ایک بھی تبلیغ احکام اسلام میں کذب کا ملزم نہ ہوا۔وہ جس نے کبھی مخلوق پر افتراء نہ باندھا اب وہ کیا ہماری ذات پاک پر مفتری ہوگا ؟ ہر گز نہیں۔اگر اپنی پہلی تجارب اور اپنی پہلی معلومات صحیحہ پر صحیح نظر کرو گے اور اس کے چالیس سال کے برتاؤ سے پتہ لو گے تو یہ نتیجہ نکلے گا۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ الا وحي يوحى اور سنو! اس کے علوم اور اس کی ہدایات کسی کمزور معلم کی تعلیم کا نتیجہ نہیں اور نہ ایسا ہے کہ یہ پورا تعلیم یافتہ نہ ہو۔اس کی تعلیم تو اس کی نبوت اور رسالت کا عمدہ نشان ہے۔اس کی تعلیم بڑے طاقتور معلم کی تعلیم ہے اور یہ بھی تعلیم کے اصلی مدارج پر پہنچ کر ٹھیک اور درست ہو چکا ہے۔یہی معنی ہیں لے اور نہیں بولتا اپنی خواہش سے مگر جو بولا وہ الہی الہام ہے جو بھیجا گیا۔