حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 222
حقائق الفرقان ۲۲۲ سُوْرَةُ النَّجْمِ سُوْرَةُ النَّجْمِ مَكِيّة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ نجم کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے اسم شریف سے جو پہلے سے نیک راہ سکھلانے والا ہے اور عمل کرنے والوں کو نیک نتیجے دینے والا ہے۔۲ تا ۵- وَالنَّجْمِ اِذَا هَوى مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى - اِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى - ترجمہ۔ثریا ستارہ کی قسم ہے جب وہ سمت الراس پر نہ ہو، ادھر اُدھر ہو۔نہ بہکا تمہارا صاحب نہ بھٹکا۔اور وہ بات نہیں کرتا اپنے نفس کی خواہش سے۔بے شک وہ تو وحی ہے جو اس کو بھیجی جاتی ہے۔تفسیر۔وہ اللہ تعالیٰ جس کی ذات بابرکات نے جسمانی ظلمتوں میں تمہارے آرام کے واسطے ایسے جسمانی سامان بنائے ہیں جن سے تم آرام پاؤ بشر طیکہ انکی طرف توجہ کرو۔اس نے تمہارے ابدی آرام اور روحانی راحتوں کے واسطے تدابیر نہ رکھی ہوں گی ؟ بے ریب رکھی ہیں۔جسمانی لیل اور چند گھنٹوں کی رات میں اگر کوئی راہنما ستارہ موجود ہے تو اس روحانی لیل اور غموم اور ہموم کی نہایت بڑی لمبی رات کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل نے تمہاری منزل مقصود اور جاودانی آرام تک پہنچانے کا راہنما بھی ضرور رکھا ہوگا۔وہ کون ہے؟ بے ریب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ثبوت۔مَا ضَل صَاحِبُكُمْ وَمَاغَوى (النجم : ۳)۔وجہ ثبوت۔اپنے ہی ملک میں ذرا تجربہ اور بلند نظری سے کام لو۔نظر کو اونچا کر کے دیکھو یہ شخص تمہارے شہر کا تمہارا ہم محبتی جس کا نام محمد ، احمد، امین ہے اور جس کو تمہارے چھوٹے بڑے انہیں پیارے ناموں سے پکارتے ہیں۔کیسا ہے؟ کیا تمہارے لئے کافی راہنما نہیں؟ بے ریب ہے۔کیونکہ نظریات کا علم ہمیشہ بدیہات سے ہوتا ہے۔اور غیر معلومہ نتائج پر