حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 215 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 215

حقائق الفرقان ۲۱۵ سُوْرَةُ الثَّرِيتِ -٣٠- فَأَقْبَلَتِ امْرَآتُه فِي صَرَّةٍ فَصَدَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُورٌ عَقِيم۔ترجمہ۔اور اس کی بی بی جماعت میں آئی پھر اس نے اپنا ماتھا پیٹا اور بولی بڑھیا بانجھ ( کو اولاد ہو گی کیا )۔تفسیر۔في صرة - جماعت میں بولتی جھرو کہ حیرت۔تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۲) -۴۸- وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَهَا بِأَيْدِ وَ إِنَّا لَمُوسِعُونَ - ترجمہ۔ہمیں نے آسمان بنایا اپنے ہاتھ سے اور کچھ شک نہیں کہ ہمیں سب ہی طرح کی قدرتیں ہیں اور ہمیں کشائش دینے والے ہیں۔تفسیر۔اس سوال کے جواب میں کہ خدا نے زمین و آسمان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اورخدا کو تھکان نہ ہوئی۔ہاتھ سے بنانے کی کیا ضرورت تھی۔گن سے بنا تا وغیرہ وغیرہ فرمایا۔کیا اللہ تعالیٰ کے حضور تمہارے مشورے کی بھی ضرورت ہے؟ پر میشر احکم الحاکین حضرت رب العلمین سرب شکستیمان ہیں۔القادر الصمد اور الغنی ہیں۔پھر سرشٹی کو میںہنی کیوں بنایا۔پھر کیا ضرورت تھی کہ عورتوں سے محبت ہو۔ان میں مرد کا نطفہ پڑے اور بشکل لڑکا ایک تنگ سوراخ سے نکل کر محنت و مشقت سے جوان ہو۔زمیندار اور گاؤ ماتا کے بچے دکھ اٹھا دیں اور غلہ پیدا ہو۔زیرِ اعتراض یہ آیتیں ہیں۔وَالسَّمَاءِ بَنَيْنَهَا بِأَيْد وَ إِنَّا لَمُوسِعُونَ (الذاريات: ۴۸) وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبِ (ق:۳۹) کس قدر صاف اور صریح بات ہے مگر بدفطرت نکتہ چین ہر ایک حسن کو بدصورتی ہی قرار دیتا ہے اس میں ایک لفظ ید ہے۔جس پر صفات الہیہ سے جاہل کو اعتراض کا موقع مل سکتا ہے۔۔لے صفات اپنے موصوف کی حیثیت اور طرز پر واقع ہوتی ہیں۔مثلاً چیونٹی کا ہاتھ، میرا ہاتھ ، شیر کا ہاتھ اور مثلاً اس وقت ہند کی حکومت لارڈ کرزن کے ہاتھ میں ہے۔بیہودہ بکواس کرنا۔اناپ شناپ لے اور ہم کو تھکان نے چھوا تک نہیں۔