حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 214
۲۱۴ سُوْرَةُ الثَّرِيتِ حقائق الفرقان -۴ امتحان لینا۔محنت لینا بھی فتنہ کے معنے ہیں۔قرآن کریم میں ہے۔وَفَتَتْكَ فُتُونا (طه : ۴۱) اور ہم نے تیرا خوب امتحان لیا - وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةٌ (الانبیاء:۳۶) اور ہم امتحان کے طور پر تمہیں بدی اور نیکی میں مبتلا کرتے ہیں۔۵۔فتنہ کے معنے دکھ بھی قرآن کریم میں آئے ہیں۔چنانچہ فرمایا ہے۔وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ القتل (البقرة: ۱۹۲) اور دکھ دینا قتل سے بھی سخت تر ہے۔وَ قُتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (البقرة : ۱۹۴) اور ان لڑنے والوں سے تم بھی لڑو تا ان کی ایذارسانی بند ہو جائے۔( نور الدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۰۴) ۲۱، ۲۲۔وَفِي الْأَرْضِ أَيتَ لِلْمُوقِنِينَ - وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ - ترجمہ۔اور زمین میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لئے۔اور خود تمہارے نفسوں میں بھی۔تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ فسیر۔ہمہ اوست کے مسئلہ پر ایک آیت بھی نص صریح الدلالہ نہیں۔یہ دیگر بات ہے کہ خود غرض لوگوں نے اپنے مدعا کے اثبات کے لئے قرآن کریم سے اس پر استدلال کیا ہے۔میں نے یہ دو آیتیں قائلین وحدۃ الوجود سے استدلال میں سنی ہیں۔b اول - وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ۔مگر جب اس آیت کا ماقبل ان سے دریافت کیا جاوے تو حیران رہ جاتے ہیں۔اس کا ماقبل یہ ہے۔وَ فِي الْأَرْضِ أَيتَ لِلْمُوقِنِينَ۔بات نہایت صاف ہے کہ اس زمین میں اس موجودات میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور جب تم اس سیر بیرونی سے فارغ ہو جاؤ تو پھر اپنے نفوس میں مطالعہ کرو۔تدبر کرو۔دوسری آیت شریف - هُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ - (الحديد: ٤) - ۴) ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۹۹،۱۹۵) وَفِي أَنْفُسِكُم - اے آیات نہ کہ اللہ تشخید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۲) لے وہی سب سے پہلے ہے (اس سے پہلے کوئی نہیں) اور وہی سب سے پیچھے ہے (اس سے پیچھے کوئی نہیں) وہی ظاہر ہے (اس کے اوپر کوئی نہیں) وہی باطن ہے ( اس سے چھپی ہوئی کوئی چیز نہیں)