حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 211
حقائق الفرقان ۲۱۱ سُوْرَةُ قَ ۲۔۲۔سموئیل ۲۲ باب ۳۹۔ہاں وہ میرے قدموں تلے پڑے ہیں۔۔۱۔سلاطین ۵ باب ۳۔جب تک کہ خدا نے ان کو اس کے قدموں تلے نہ کر دیا۔۴۔زبور ۸۔۶۔تو نے سب کچھ اس کے قدم کے نیچے کر دیا۔لوقا ۲۰ باب ۴۳ و مرقس ۱۲ باب ۳۶۔جب تک تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی کروں۔دیکھو ان سب محاورات میں لغوی معنوں میں قدم کا لفظ نہیں بولا گیا بلکہ مجازی معنوں میں۔پس حدیث کے یہ معنی ہوئے کہ یہاں تک کہ خدا جہنم کو ذلیل و خوار کر ڈالے اور اسے چپ کرا دے“۔ہاں یہ محاورہ اس خطبے میں بھی آیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج میں بمقام عرفات پڑھا۔وو " وَ دِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوْعَةٌ تَحْتَ قَدَمِي ، ل جواب نمبر 4 : یہ جواب گوالزامی جواب ہے مگر ہم نے اس بارے میں مسیح کے اس قول کی پیروی کی ہے کہ الزام مت لگاؤ تا کہ تم پر الزام نہ لگا یا جاوے اور نیز الزامی جواب اس لئے بھی اختیار کیا جاتا ہے کہ معترض اپنی مسلمہ و مالوفہ کتابوں سے اس قسم کے اشتباہ کو رفع کرے۔اب جواب سنئے۔مسیحی اعتقاد میں مسیح ملعون ہوا ( نعوذ باللہ ) اور ملعون کا ٹھکانہ جہنم ہے۔دیکھوحل الا شکال اور پولوس نامہ گلتیاں ۳ باب ۱۳۔جو کا ٹھ پر لٹکا یا جاوے وہ ملعون ہے۔اور نیز مسیحی اعتقاد میں مسیح خدا ہیں اور رب العزت بھی ہیں ( صاحب عزت ) پس معنے یہ کہ جہنم کو تسکین نہ ہو گی۔جب تک عیسائیوں کے خدا اس میں قدم نہ رکھیں۔اب سارے جوابوں کی آپ ہی کوشش کریں۔حاصل الامر چونکہ پادری صاحب نے حدیث کا مطلب غلط سمجھا اور بطور بنائے فاسد علی الفاسد اس سے غلط استنباطات کئے پس ان کے اعتراض کے باقی شقوق بھی بیکار ومعطل ہو گئے اس لئے جاہلیت کے زمانہ میں بہائے گئے ) خون میرے قدموں کے نیچے ہیں (یعنی اس کا کوئی قصاص نہیں)۔