حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 210 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 210

حقائق الفرقان ۲۱۰ سُوْرَةُ قَ یادر ہے کہ اہل اسلام کے اعتقاد میں دوزخ شریروں اور بدذاتوں کی جگہ ہے جیسا حدیث ذیل میں مذکور ہے۔مشکوۃ صفحہ ۴۹۶۔ابوہریرہ سے روایت ہے کہ دوزخ میں ایک وادی ہے اس کا نام ھب ھب ہے اس کی تسکین کا باعث ہر ایک جبّار ہو گا۔اس کے آخری جملے کے الفاظ یہ ہیں يُسَكِنَهُ كُلُّ جَبَّارٍ - جواب ۳ بعض روایات میں اگر آیا ہے حتٰی يَضَعَ اللهُ فِيْهَا قَدَمَہ۔اوّل تو یہ روایت حدیث کے اعلیٰ طبقے کی روایت نہیں کیونکہ اس میں روایت بالمعنی کا احتمال ہے۔اگر مان بھی لیا جاوے۔تو قدم سے مرادا شرار ہیں پاؤں نہیں۔دیکھو قاموس اللغة قَدَمَهُ - أَتَ الَّذِينَ قَدَمُهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ فَهُمْ قَدَمُ اللهِ لِلنَّارِ كَمَا أَنَّ الْخيَارَ قَدَمَهُ لِلْجَنَّةِ یعنی قدم سے مراد وہ شریر لوگ ہیں جن کو خدا نے دوزخ کے آگے دھر دیا۔پس وہ لوگ خدا کی طرف سے آگ کے لئے آگے کئے گئے جیسے اچھے لوگ خدا کی طرف سے جنت کی جانب آگے کئے گئے۔پس حدیث کے یہ معنے ہوئے کہ دوزخ هَل من مزید پکارتی رہے گی جب تک خدا اشرار کو اس میں نہ ڈالے گا۔پھر وہ بس کرے گی۔جواب ۴: وَضْعُ الْقَدَمِ - مَثَلُ لِلرَّدْعِ وَ الْقَبْحِ یعنی وضع قدم ایک محاورہ ہے جس کے معنے ہیں روکنا اور تھام دینا۔اب حدیث کے یہ معنے ہوئے کہ ” یہاں تک اللہ تعالیٰ اپنی روک اور تھام رکھے گا۔اور ایسی روک کر دیگا کہ دوزخ هَلْ مِن مزید کہنے سے رک جاوے گی۔“ 66 جواب ۵: وَضْعُ القَدَم : ( پاؤں رکھ دینا ) ذلیل اور خوار کرنے پر بولا جاتا ہے۔چونکہ عبری اور عربی قریب قریب زبانیں ہیں اور کتب مقدسہ میں بھی یہ محاورہ برتا گیا ہے اس لئے بنظر ثبوت اتنا ہی بس ہے۔ا۔یسعیاہ ۳۷ باب ۲۵۔خدا فرماتا ہے میں اپنے پاؤں کے تلووں سے مصر کی سب ندیاں سکھا دوں گا۔