حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 202
حقائق الفرقان ۲۰۲ سُوْرَةُ الْحُجُرَاتِ ۱۵ - قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ وَ إِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتُكُم مِّنْ اعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - ترجمہ ۔ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے تم کہہ دو کہ ایمان نہیں لائے لیکن کہو کہ ہم فرمانبردار ہو گئے اور ابھی داخل نہیں ہوا تمہارے دلوں میں ایمان (یعنی ایمان یا سکینہ نہیں ) اور تم اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلو گے تو وہ تمہارے عملوں میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ بے شک اللہ بڑا غفور الرحیم ہے۔ تفسیر۔ اعراب نے کہا ہم ایمان لائے تو کہ کہ مومن نہیں ہوئے لیکن بولو کہ ہم فرمانبردار ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔ ( فصل الخطاب المقدمہ اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۸۰ حاشیه ) ١٦ - إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَ جْهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللهِ أُولَئِكَ هُمُ الصُّدِقُونَ - ترجمہ ۔ اس کے سوا نہیں کہ ایماندار تو وہی ہیں جنہوں نے اللہ اور رسول کو مانا سچے دل سے پھر کچھ شک و شبہ نہ کیا اور بڑی نیک کوشش کی اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں (یعنی قرآن پر عمل کرنے میں ) یہی لوگ سچے ( ایماندار ہیں ) ۔ تفسیر۔ کہ مومن وہی لوگ ہوتے ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور ایمان لا لاتے ہیں اللہ کے رسول پر اور اگر ان پر کچھ مشکلات آ پڑیں تو کوئی شک و شبہ نہیں لاتے بلکہ جَهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَ انْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وہ اپنے مالوں اور جانوں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کرتے کہ کسی اور کی کمائی سے یا کسی اور کا مال حاصل کر کے خدا کی راہ میں خرچ کر دیں کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ پھر ان کو کہاں سے دوں گا اس لئے وہ خود کما کر اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ آجکل قحط کا زور ہوتا جاتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ اپنی روٹی کا ایک حصہ کسی ایسے شخص کو دے دیا کرے جس کے پاس روٹی نہیں ۔ اگر اس میں سے نہیں دے سکتا تو کوئی پیسہ ہی سہی کہ وہ بیچارہ خرید کر