حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 201
حقائق الفرقان ۲۰۱ سُوْرَةُ الْحُجُرَاتِ کنبے بنائے تا کہ ایک دوسرے کو پہچانو۔بے شک تم میں زیادہ عزت دار اللہ کے نزدیک وہی ہے جو بڑا متقی ہو۔بے شک اللہ بڑا جاننے والا ہے بڑا خبر دار ہے۔تفسیر۔(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) ہم نے ہی تم کو پیدا کیا نرومادہ سے اور تم کو قوموں اور قبائل پر تقسیم کیا۔تو کہ ایک دوسرے سے تعارف رکھو اور تمہیں یادر ہے کہ خدا کے یہاں تم میں سے وہی معزز ہے جو بڑا پر ہیز گار ہے۔اور جان رکھو۔اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۳۰) اے آدمیو! ہم نے تم کو بنایا نر اور مادہ اور کر دیں تم میں ذاتیں اور قبیلے تا کہ پہچان لو۔بے شک بزرگ تم میں سے اللہ کے نزدیک بڑے ادب والا ہے۔بے شک اللہ جاننے والا ہے خبر دار۔فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحه ۵۱ حاشیه ) اِنَّ اكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ انْقَكُم - یعنی تم میں سے معزز اور زیادہ مکرم وہ ہے جو زیادہ تر متقی ہے۔جس قدر نیکیاں اور اعمال صالح کسی میں زیادہ تر ہیں وہی زیادہ معزز و مکرم ہے۔کیا بے جا شیخی اور انانیت پیدا نہیں ہو رہی؟ پھر بتلاؤ کہ اس نعمت کی قدر کی تو کیا کی؟ یہ اخوت اور برادری کا واجب الاحترام مسئلہ اسلام کے دیکھا دیکھی اب اور قوموں نے بھی لے لیا۔پہلے ہندو وغیرہ قومیں کسی دوسرے مذہب وملت کے پیرو کو اپنے مذہب میں ملانا عیب سمجھتے تھے اور پر ہیز کرتے تھے۔مگراب شدھ کرتے اور ملاتے ہیں۔گو کامل اخوت اور سچے طور پر نہیں۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غور کرو کہ حضور نے اپنی عملی زندگی سے کیا ثبوت دیا کہ زید جیسے کے نکاح میں شریف بیبیاں آئیں۔اسلام ! مقدس اسلام نے قوموں کی تمیز کو اٹھا دیا جیسے وہ دنیا میں توحید کو زندہ اور قائم کرنا چاہتا تھا اور چاہتا ہے۔اسی طرح ہر بات میں اس نے وحدت کی روح پھونکی اور تقوای پر ہی امتیاز رکھا۔قومی تفریق جو نفرت اور حقارت پیدا کر کے شفقت علی خلق اللہ کے اصول کی دشمن ہوسکتی تھی اُسے دور کر دیا۔ہمیشہ کا منکر خدا رسول کا منکر جب اسلام لاوے تو شیخ کہلاوے۔یہ سعادت کا تمغہ! یہ سیادت کا نشان جو اسلام نے قائم کیا تھا صرف تقوی تھا۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۶ مورخه ۵ رمئی ۱۸۹۹ صفحه ۴)