حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 11
حقائق الفرقان 11 سُوْرَةُ فَاطِرٍ غرض سلوک کی راہ میں مومن کو تین درجے طے کرنے پڑتے ہیں۔پہلے درجہ میں جب بدی کی عادت ہو تو اس کے چھوڑنے میں جان پر ظلم کرے اور اس قوت کو دباوے۔شراب کا عادی اگر شراب کو چھوڑے گا تو ابتدا میں اس کو بہت تکلیف محسوس ہوگی۔شہوت کے وقت عفت سے کام لے اور قوائے شہوانیہ کو دبا وے۔اسی طرح جھوٹ بولنے والا ، ست ، منافق ، راست بازوں کے دشمنوں کو بدیاں چھوڑنے کیلئے جان پر ظلم کرنا پڑے گا تاکہ یہ اس طاقت پر فاتح ہو جاویں۔بعد اس کے میانہ روی کی حالت آوے گی کبھی کبھی بدی کے چھوڑنے میں گو کسی وقت کچھ خواہش بد پیدا بھی ہو جاوے۔ایک لذت اور سرور بھی حاصل ہو جایا کرے گا۔مگر تیسرے درجہ میں پہونچ کر سابق بالخیرات ہونے کی طاقت آ جاوے گی اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی بارش ہونے لگے گی اور مکالمہ الہی کا شرف عطا ہو گا۔الحکم جلد ۳ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۸۹۹ءصفحہ ۲۔۳) فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِه - برگزیدوں کی تین حالتیں بتاتا ہے۔بعض اوقات نفس پر جبر کر کے بدی یا ممنوع شے سے رکنا پڑتا ہے بلکہ نیکی کرنے کے لئے بھی نفس پر بہت کچھ ظلم کرنا پڑتا ہے مثلاً تہجد پڑھنے کے لئے اٹھنے کے واسطے بہت کچھ نفس پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے پھر اس حالت سے نکل کرمیانہ رو ہو جاتا ہے پھر نیکیوں کو لپک لپک کر لیتا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۵۱، ۵۲ مورخه ۲۷ اکتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۰۹) فَمِنْهُمُ ظَالِمُ لِنَفْسِہ۔جو بدی کو چھوڑ کر نیکی اختیار کرنے کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالے وہ کتاب کا وارث ہوتا ہے۔تشخيذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۷۶) ۳۴- جنتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلُّونَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَ - ور نُولُوا وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرُ۔ترجمہ۔ہمیشہ کے باغ ہیں جن میں وہ رہیں گے۔وہاں انہیں سونے کے اور موتی کے کڑے ائے جائیں گے یا دیئے جائیں گے اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔تفسیر۔انسان عالم کبیر ہے اور کائنات عالم صغیر یا کائنات عالم کبیر اور انسان عالم صغیر۔کچھ بھی