حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 199
حقائق الفرقان ۱۹۹ سُوْرَةُ الْحُجُرَاتِ فرما دی کہ بات اس کے خلاف نکلی۔میں اس میں تجربہ کار ہوں۔اس لئے نصیحت کے طور پر کہتا ہوں کہ اکثر سوء ظنیوں سے بچو۔اس سے سخن چینی اور عیب جوئی کی عادت بڑھتی ہے۔اسی واسطے اللہ کریم فرماتا ہے۔ولا تجسسوا تجسس نہ کرو تجس کی عادت بدظنی سے پیدا ہوتی ہے۔جب انسان کسی کی نسبت سور ظنی کی وجہ سے ایک خراب رائے قائم کر لیتا ہے تو پھر کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کے کچھ عیب مل جاویں اور پھر عیب جوئی کی کوشش کرتا اور اسی جستجو میں مستغرق رہتا ہے۔اور یہ خیال کر کے کہ اس کی نسبت میں نے جو یہ خیال ظاہر کیا ہے۔اگر کوئی پوچھے تو پھر اس کا کیا جواب دوں گا۔اپنی بدظنی کو پورا کرنے کیلئے تجسس کرتا ہے اور پھر تجس سے غیبت پیدا ہوتی ہے جیسے فرمایا اللہ کریم نے وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا۔غرض خوب یاد رکھو کہ سوء ظن سے تجسس اور تجسس سے غیبت کی عادت شروع ہوتی ہے۔اور چونکہ آجکل ماہ رمضان ہے۔اور تم لوگوں میں سے بہتوں کے روزے ہوں گے۔اس لئے یہ بات میں نے روزہ پر بیان کی ہے اگر ایک شخص روزہ بھی رکھتا ہے اور غیبت بھی کرتا ہے اور تجسس اور نکتہ چینیوں میں مشغول رہتا ہے۔تو وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔جیسے فرما یا آئیحِبُّ أَحدُكُمْ آنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ! اب جو غیبت کرتا ہے وہ روزہ کیا رکھتا ہے۔وہ تو گوشت کے کباب کھاتا ہے اور کباب بھی اپنے مردہ بھائی کے گوشت کے اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ غیبت کرنے والا حقیقت میں ہی ایسا بد آدمی ہوتا ہے۔جو اپنے مردہ بھائی کے کباب کھاتا ہے۔مگر یہ کباب ہر ایک آدمی نہیں دیکھ سکتا۔ایک صوفی نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک شخص نے کسی کی غیبت کی۔تب اس سے قے کرائی گئی تو اس کے اندر سے بوٹیاں نکلیں جن سے بو بھی آتی تھی۔یاد رکھو یہ کہانیاں نہیں۔یہ واقعات ہیں۔جو لوگ بدظنیاں کرتے ہیں وہ نہیں مرتے جب تک اپنی نسبت بدظنیاں نہیں سن لیتے۔اس لئے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں اور درد دل سے کہتا ہوں کہ لے ماہ اکتوبر ۱۹۰۷ ء۔مرتب