حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 198
حقائق الفرقان ۱۹۸ سُوْرَةُ الْحُجُرَاتِ گئے ہیں۔ہمارے زیر علاج بھی ایک دہریہ ہے۔میں نے اس سے یہی سوال کیا تھا تو وہ ہنس کر خاموش ہو گیا تھا۔ایسے ہی جو لوگ قیامت کے قائل نہیں ہوتے۔وہ بھی کسی حقیقی نیکی کو کامل طور پر عمل میں نہیں لا سکتے۔نیکیوں کا آغاز جزا سزا کے مسئلہ سے ہی ہوتا ہے۔جو شخص جزا سزا کا قائل نہیں ہوتا۔وہ نیکیوں کے کام بھی نہیں کر سکتا۔ایسے ہی جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے اس قسم کے الفاظ سے مجھے رنج پہنچتا ہے۔وہ کسی کی نسبت ویسے الفاظ کیوں استعمال کرنے لگا۔یا جوشخص اپنی لڑکی سے بدنظری اور بدکاری کروانا نہیں چاہتا اور اسے ایک برا کام سمجھتا ہے۔وہ دوسروں کی لڑکیوں سے بدنظری کرنا کب جائز سمجھتا ہے۔ایسے ہی جو اپنی ہتک کو برا خیال کرتا ہے وہ دوسروں کی ہتک کبھی نہیں کرتا۔بہر حال یہاں اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے بچنے کا ایک گر بتایا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْه - ایماندارو اظن سے بچنا چاہیے کیونکہ بہت سے گناہ اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔إيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ایک شخص کسی کے آگے اپنی ضرورتوں کا اظہار کرتا ہے اور اپنے مطلب کو پیش کرتا ہے۔لیکن اس کے گھر کی حالت اور اس کی حالت کو نہیں جانتا اور اس کی طاقت اور دولت سے بے خبر ہوتا ہے۔اپنی حاجت براری ہوتے نہ دیکھ کر سمجھتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر شرارت کی اور میری دستگیری سے منہ موڑ ا۔تب محض ظن کی بناء پر اس جگہ جہاں اس کی محبت بڑھنی چاہیے تھی۔عداوت کا بیج بویا جاتا ہے۔اور آہستہ آہستہ ان گناہوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے جو عداوت کا پھل ہیں۔کئی لوگوں سے میں نے پوچھا ہے کہ جب تم نے میرا نام سنا تھا تو میری یہی تصویر اور موجودہ حالت کا ہی نقشہ آپ کے دل میں آیا تھا۔یا کچھ اور ہی سماں اپنے دل میں آپ نے باندھا ہوا تھا تو انہوں نے یہی جواب دیا ہے کہ جو نقشہ ہمارے دل میں تھا اور جو کچھ ہم سمجھے بیٹھے تھے وہ نقشہ نہیں پایا۔یاد رکھو۔بہت بدیوں کی اصل جڑھ سوء ظن ہوتا ہے۔میں نے اگر کبھی سوء ظن کیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے میری تعلیم