حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 197
حقائق الفرقان ۱۹۷ سُورَةُ الحُجُرَات اڑائے۔یہ منع ہے۔چنانچہ اس نے فرمایا۔لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ - ( بدر جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۱۸ / فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۲) او ایمان والو! بہتی بدگمانیوں سے بچو۔بعض بدگمانی بدکاری ہوتی ہے۔لوگوں کی عیب جوئی مت کیا کرو اور ایک دوسرے کا گلہ کبھی نہ کرو۔گلہ کرنا ایسا برا ہے جیسا بھائی کا گوشت کھا لینا۔کیا یہ امر کسی کو پسند ہے۔بے ریب کسی کو بھی یہ بات پسند نہیں۔اللہ سے اس کی نافرمانیوں پر ڈرو۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو نا فرمانیوں کو چھوڑ ، اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں رحم کرتا ہے۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۳۰) بعضے گناہ ہوتے ہیں کہ وہ اور بہت سے گناہوں کو بلانے والے ہوتے ہیں۔اگر ان کو نہ چھوڑا جائے تو ان کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص کے بتوں کو تو توڑا جائے مگر بت پرستی کو اس کے دل سے دور نہ کرایا جاوے۔اگر ایک بت کو توڑ دیا تو اس کے عوض سینکڑوں اور تیار ہو سکتے ہیں۔مثلاً صلیب ایک پیسہ کو آتی ہے اگر کسی ایک کی صلیب کو توڑ ڈالیں تو لاکھوں اور بن سکتی ہیں۔غرض جب تک شرارتوں اور گناہوں کی ماں اور جڑھ دور نہ ہو۔تب تک کسی نیکی کی امید نہیں ہو سکتی اور تا وقتیکہ اصلی جڑھ اور اصلی محرک بدی کا دور نہ ہو۔فروعی بدیاں بکلی دور نہیں ہوسکتیں۔جب تک بدیوں کی جڑھ نہ کائی جاوے۔تب تک وہ اور بدیوں کو اپنی طرف کھینچے گی اور دوسری بدیاں اپنا پیوند اس سے رکھیں گی۔مثلاً شہوت بد ایک گناہ ہے۔بدنظری ، زنا ، لواطت ، حسن پرستی سب اسی سے پیدا ہوئی ہیں۔حرص اور طمع جب آتا ہے تو چوری جعلسازی ، ڈاکہ زنی ، ناجائز طور سے دوسروں سے مال حاصل کرنے اور طرح طرح کی دھوکہ بازیاں سب اسی کی وجہ سے کرنی پڑتی ہیں۔غرض یہ یادرکھنے والی بات ہے کہ بعض باتیں اصل ہوتی ہیں اور بعض انکی فروعات ہوتی ہیں۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے۔وہ کوئی حقیقی اور سچی نیکی ہر گز نہیں کر سکتے اور وہ کسی کامل خلق کا نمونہ نہیں دکھا سکتے۔کیونکہ وہ کسی صحیح نتیجہ کے قائل نہیں ہوتے۔میں نے بڑے بڑے دہریوں کو مل کر پوچھا ہے کہ کیا تم کسی بچے اخلاق کو ظاہر کر سکتے ہو اور کوئی حقیقی نیکی عمل میں لا سکتے ہو تو وہ لا جواب سے ہو کر رہ