حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 10 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 10

حقائق الفرقان سُوْرَةُ فَاطِرٍ تھے۔کسی نے نہ پوچھا۔پھر آپ خوب لباس پہن کر گئے تو سب نے تعظیم دی۔آپ بھی شور بہ وغیرہ کی رکابی اپنے چونہ پر ڈالنے لگے۔حاضرین نے تعجب کیا تو جواب دیا۔مجھے تو کسی نے پوچھا نہیں۔یہ دعوت تو میرے کپڑوں کی ہے۔انہی کو کھلاتا ہوں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۵۱، ۵۲ مورخه ۲۷ /اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۰۹) ٣٣ ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتَبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرُتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ ذَلِكَ هُوَ ج وج الْفَضْلُ الكَبِيرُ - ترجمہ۔پھر ہم نے وارث بنایا کتاب کا ان لوگوں کو جنہیں ہم نے منتخب کیا اپنے بندوں میں سے برگزیدہ بندوں کی تین قسم ہیں) کوئی تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے کوئی ان میں سے بیچ کی چال چل رہا ہے اور ان میں سے کوئی نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں اللہ کے حکم سے۔یہی تو ( بہت بڑا فضل ہے۔تفسیر۔پھر وارث کیا ہم نے اپنی کتاب کا ان لوگوں کو جو برگزیدہ ہیں۔پس بعض ان میں سے ہیں۔ظالموں کا گروہ ہے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں اور جبر واکراہ سے نفس امارہ کو خدا تعالیٰ کی راہ پر چلاتے ہیں اور نفس سرکش کی مخالفت اختیار کر کے مجاہدات شاقہ میں مشغول ہیں۔دوسرا گروہ میانہ روآدمیوں کا ہے جو بعض خدمتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس سرکش سے بہ جبروا کراہ لیتے ہیں اور بعض البی کاموں کی بجا آوری میں نفس ان کا بخوشی خاطر تابع ہو جاتا ہے اور ذوق اور شوق اور محبت اور ارادت سے ان کاموں کو بجالاتا ہے۔غرض یہ لوگ کچھ تو تکلیف اور مجاہدہ سے خدا تعالیٰ کی راہ پر چلتے ہیں اور کچھ طبعی جوش اور دلی شوق سے بغیر کسی تکلف کے اپنے رب جلیل کی فرماں برداری ان سے صادر ہوتی ہے۔(۳) تیسرے سابق بالخیرات اور اعلیٰ درجہ کے آدمیوں کا گروہ ہے جو نفس امارہ پر بکلی فتح یاب ہو کر نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔