حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 189
حقائق الفرقان ۱۸۹ سُوْرَةُ الْفَتْحِ موجب ہو گئیں۔جو مسلمان مرتد ہوتاوہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی جماعت کے کام کا نہ تھا۔اس کے جانے سے انہیں کیا نقصان اور جو مشرکین میں سے مسلمان ہوتا وہ مکہ میں رہتا۔تو دوسروں کی ہدایت کا موجب بنتا۔پھر یہ فائدہ ہوا کہ ابو بصیر مسلمان ہو کر مدینہ بھاگ آیا۔دو آدمی مکہ سے اس کو پکڑنے کیلئے روانہ ہوئے۔جب حضور رسالت مآب میں پہنچے تو آپ نے حکم دیا کہ ابوالبصیر واپس چلا جائے اس نے بہتیرے عذر کئے مگر آپ نے فرمایا۔ہم معاہدہ کے خلاف نہیں کریں گے۔راستے میں اس نے اپنے محافظ مشرکوں میں سے ایک کی تلوار لے کر ایک کو مار دیا۔دوسرا پھر فریاد کرتا ہوا آیا۔ابوبصیر بھی پہنچ گیا۔آپ نے اسے کہا۔تو لڑائی کرانا چاہتا ہے میں تجھے واپس بھجوا دوں گا۔یہ سن کر وہ وہاں سے بھاگ گیا اور ایک جگہ پر ڈیرہ بنالیا۔اب جو مسلمان ہوتا مکہ سے بھاگ کر ان کے پاس آجاتا اور رفتہ رفتہ ان کی ایک جماعت بن گئی۔چونکہ وہ مکہ والوں کے نکالے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے اپنے اخراجات خوراک وغیرہ کے لئے مکہ ہی کے قافلوں سے اپنا حصہ لینا شروع کیا۔اس طرح پر یہ شرط ان مشرکین کیلئے موجب ضرر ہوئی۔اور وہ نبی کریم کی خدمت میں آئے کہ آپ اپنے آدمیوں کو بلوا لیجئے۔ہم اس شرط کو توڑتے ہیں۔دوم۔ان فہرستوں کے لکھوانے کا فائدہ یہ ہوا کہ خزاعہ پر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حمایت میں تھے۔بنو بکر وائل نے حملہ کیا اور مشرکین نے ان کا خفیہ خفیہ ساتھ دیا۔خزاعہ میں سے دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور فریاد لے کر حاضر ہوئے۔ادھر مکہ والوں نے بھی اپنا ایک سردار بھیج دیا کہ معاہدہ نئے سرے سے ہو۔کیونکہ میں اس وقت موجود نہ تھا۔اس طرح پر وہ معاہدہ آپ ہی انہوں نے اپنے عمل اور اپنے قول سے توڑ دیا۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کی اور اس طرح پر خدا کا کلام إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مبينا پورا ہوا۔اور اسی فتح کے ذریعہ ثابت ہوا کہ نبی کریم صلعم کی زندگی ہر قسم کے عیبوں اور ان الزاموں سے پاک ہے۔جو آپ کی ذات سے منسوب کئے جاتے تھے لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ کے یہی معنے ہیں کہ تیری ذات پر جو الزام یہ ملکہ کی ہجرت سے پہلے یا پیچھے لگاتے