حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 185 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 185

حقائق الفرقان ۱۸۵ سُوْرَةُ الْفَتْحِ کو گناہ بخشنے کا اختیار ہے۔وہاں باری تعالیٰ کو ایک خاتم الانبیاء کے گناہ بخشنے کا اختیار کچھ تعجب انگیز اور محت انکار ہے؟ ہر گز نہیں! بیشک اللہ تعالیٰ نے نبی عرب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات دیں۔ظاہری فتوح فتح مکہ وغیرہ جس کے ظہور سے بت پرستی کا استیصال اس شہر سے کیا۔عرب جیسے بت پرست ملک سے ابد کے لئے ہو گیا۔اور تمام دنیا میں تو حیدر بوبیت کے علاوہ توحید الوہیت کا شور مچ گیا اور مختلف قبائل عرب لوٹ مار کرتے۔شراب خوری اور جوئے بازی پر فخر بگھارتے۔سراسر اخلاق مجسم پورے موحد ہو کر نیک چال پر آگئے۔اتنی ہدایت پھیلانے سے ہادی کے گناہ معاف نہ ہوئے ہوں؟ بالکل عقل کے خلاف ہے اور فتوحات باطنی کا حال آگے لکھ چکا ہوں۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۱۶۲ - ۱۶۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش ذنب کے دو معنی لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ (الفتح: ۳) کے متعلق دو معنی مجھے سمجھ میں آئے ہیں۔ایک معنی تو امام علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے ہیں اور وہ اس طرح پر ہیں کہ انسان جب کوئی کام کرتا ہے تو لوگ اس میں کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتے ہیں لیکن جب وہ کامیاب ہو جا تا ہے تو اعتراض کرنے والے خود بخود شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کرتے تھے لیکن جب آپ فاتح ہو گئے تو ان کو معلوم ہو گیا کہ وہ اعتراض ان کی اپنی غلطی تھی۔دوسرے معنی جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھائے ہیں وہ یہ ہیں۔ذنبك یعنی تیرے قصور، کیا مطلب کہ جو بدیاں اہل مکہ نے تجھ سے کی ہیں اور ہجرت سے پہلے جو ایذا ئیں اور تکلیفیں دی ہیں وہ ان کا قصور تھا مگر اللہ نے تیرے سبب سے اہل مکہ کے گناہ بھی بخش دیئے کیونکہ وہ مسلمان ہو گئے۔الحکم جلدے نمبر ۳۷ مورخه ۱۰/اکتوبر ۱۹۰۳، صفحه ۳)