حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 184
حقائق الفرقان ۱۸۴ سُوْرَةُ الْفَتْحِ ہمیں واپس دیا جائے۔اسے بھی آپ نے مان لیا۔حضرت عمر خصوصیت سے اس پر گھبرا رہے تھے۔چہارم یہ کہ جب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اور محمد رسول اللہ لکھنے لگے تو مشرکین مانع ہوئے اور کہا کہ ہم اگر آپ کو رسول مانتے تو یہ جھگڑا ہی کیوں کرتے۔یہ لفظ چونکہ لکھے جا چکے تھے۔حضرت علی کو ان کا مٹانا گوارا نہ تھا۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خود مٹا دیا۔یہ چار شرطیں ایسی تھیں کہ صحابہ کو ان پر بڑا قلق تھا۔ایسی حالت میں یہ سورۃ نازل ہوئی۔إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فتحا مبینا۔اب بتاؤ اس وقت اس پیشگوئی کا سمجھ میں آنا آسان تھا ؟ ہر گز نہیں۔تشخیذ الاذہان جلدے نمبر ۴۔ماہ اپریل ۱۹۱۲ء صفحہ ۱۸۰) ایسے بشارات حسب کتب مقدسہ ضرور ہوا کرتی ہیں۔دیکھومتی۔پطرس نے جب کہا۔ہم نے تیرے لئے سب کچھ چھوڑ دیا۔تو مسیح نے فرمایا۔تم بادشاہت کے وقت بارہ تختوں پر بیٹھو گے۔۱۹ باب ۲۷ متی۔اگر کہو مسیحی بشارات اور پطرس کی خوشخبری مشروط تھی۔بدوں شرط نہیں۔تو ہم کہتے۔مسیحی اور پطرسی شرط کا تو ذکر انجیل میں نہیں۔قرآنی بشارات کا خود قرآن میں ذکر ہے۔دیکھو آیت۔کپن اشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلكَ (الزمر : ۶۶) مطلب یہ ہے کہ اگر خاتمہ ایمان پر ہوا تو تیرے گناہ معاف ہیں۔اور سنو! فَتَحْنَا لَكَ فَتْعًا مُبِينًا (الفتح : ٢) کے معنے آپ لوگوں کو معلوم نہیں۔اس آیت شریف کی تفسیر کے لئے قرآن ہی عمدہ تفسیر ہے اور وہ خود آیت مفسرہ آیت اَلَم نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ - وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ - (الم نشرح: ۲، ۳) ہے۔فتح سے مراد ہے۔دل پر علوم باری اور آسمانی بادشاہت کے اسرار کا کھولنا اور جب وہ کھلتے ہیں تو تو بہ اور خشیت اور خوف الہی پیدا ہوتا ہے۔جس کے باعث گناہ نہیں رہتے۔انسان نئی زندگی پاتا ہے۔نیا جلال حاصل کرتا ہے۔ایک اور جواب سنئے۔میسج حواریوں کو فرماتے ہیں۔جن کو تم بخشو۔ان کے گناہ بخشے جاتے ہیں۔اور جنہیں تم نہ بخشو گے۔نہ بخشے جائیں گے۔یوحنا، ۲ باب ۲۳۔بھلا جہاں مچھوں اور ٹوریوں