حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 183 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 183

حقائق الفرقان ۱۸۳ سُوْرَةُ الْفَتْحِ سُوْرَةُ الْفَتْحِ مَكِيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ فتح کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس کے نام سے جس نے سب تدبیریں پہلے سے بنا رکھی ہیں سچی کوشش کا بدلہ دیا۔٢ ، ٣ - إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا - لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا - ترجمہ۔بے شک ہم نے تجھ کو کھلم کھلا فتح دی۔نتیجہ یہ کہ تیرے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دے اور تجھ پر اپنا احسان پورا کرے اور تجھے سیدھی راہ چلائے۔تفسیر۔ہجرت سے چھٹے سال حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک رؤیا ہوا کہ ہم مع صحابہ مکہ میں گئے ہیں اور عمرہ کے بعد حلق کروا رہے ہیں۔اس بناء پر آپ نے پندرہ سو کے ہمراہ ملکہ کی طرف کوچ کیا۔حدیبیہ کے پاس مقام فرمایا۔ادھر سے مکہ کے لوگ مقابلہ کونکل آئے۔آپ نے فرما یا ہم آپ سے لڑنے کیلئے نہیں آئے۔آپ ہم کو اجازت دیں کہ بیت اللہ کا طواف کر کے چلے جائیں۔اس پر بڑا لمبا مباحثہ ہوا۔آخر یہ قرار پایا کہ ایک عہد نامہ لکھا جاوے دو فہرستیں تیار ہوں۔ایک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان قبیلوں کے نام ہوں جو ان کے ساتھ ہیں اور ایک طرف مشرکین اور ان کے ہمراہی قبیلوں کے نام ہوں۔دوم یہ کہ اس سال آپ واپس تشریف لے جائیں اور آئندہ سال حج کیلئے آویں۔آپ نے اسے منظور فرمالیا۔حالانکہ صحابہ سے بہت اس پر راضی نہ تھے۔سوم یہ کہ اگر کوئی ہم (مشرکین ) میں سے مسلمان ہو جائے۔تو وہ آپ ہمراہ نہ لے جائیں۔نہ مدینہ میں رہنے دیں اور اگر آپ ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) میں سے کوئی مرتد ہو جائے تو