حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 9
حقائق الفرقان سُوْرَةُ فَاطِرٍ اعلی محبت پر قربان کرتا ہوں۔مثلاً سڑک ہے جہاں درخت بڑھانے کا منشاء ہوتا ہے۔وہاں نیچے کی شاخوں کو کاٹ دیتے ہیں۔پھر درخت پر پھول آتا ہے اور وہ درخت متحمل نہیں ہو سکتا تو عمدہ حصے کے لئے ادنی کو کاٹ دیتے ہیں۔میرے پاس ایک شخص سردہ لایا اور ساتھ ہی شکایت کی کہ اس کا پھل خراب نکلا۔میں نے کہا کہ قربانی نہیں ہوئی۔چنانچہ دوسرے سال جب اس نے زیادہ پھولوں اور خراب پودوں کو کاٹ دیا تو اچھا پھل آیا۔لوگ جسمانی چیزوں کے لئے تو اس قانون پر چلتے ہیں مگر روحانی عالم میں اس کا لحاظ نہیں کرتے اور اصل غرض کو نہیں دیکھتے علم کی اصل غرض کیا ہے۔شیۃ اللہ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا علم پڑھو اس غرض کیلئے کہ لوگوں کو خشیتہ اللہ سکھاؤ۔مگر علم کی اصل غرض خشیت ، تہذیب النفس تو مفقود ہو گئی۔ادھر کتابوں کے حواشی پڑھنے میں سارا وقت خرچ کیا جا رہا ہے مگر ان کتابوں کے مضمون کا نفس پر اثر ہو اسکی ضرورت نہیں۔میں رام پور میں پڑھتا تھا۔وہاں دیکھتا کہ لوگ مسجد کے ایک کونے میں صبح کی نماز پڑھ لیتے اور مسجد کے ملاں کو نہ جگاتے کہ رات بھر مطالعہ کرتے رہے ہیں۔انہیں جگانے سے تکلیف ہوگی۔علم تہذیب النفس کیلئے تھا مگر لوگوں نے اسے تخریب نفس کا ہلی اور سستی میں لگا دیا۔دوسروں کی اصلاح کے دعویدار ہیں۔مگر خود اپنی اصلاح سے بے خبر۔( بدر جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخه ۲۱ /جنوری ۱۹۰۹ء صفحه ۸) ٣٠ - إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَبَ اللهِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سرًّا وَ عَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ - ترجمہ۔جولوگ کلام اللہ کو ( مطلب سمجھ کر تدبر کے ساتھ ) پڑھا کرتے ہیں اور نماز کو ٹھیک درست رکھتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ دیا کرتے ہیں چھپا چھپا کر ( خلوص سے ) اور دکھا دکھا کر ( ترغیب کے لئے ) وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جو کبھی ڈوبے ہی گی نہیں۔تفسیر۔يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ۔مومن وہی ہے جو ایسی تجارت کرے جس میں ٹوٹا نہیں۔عارضی و نمائشی چیزوں پر اتنا روپیہ نہیں صرف کرتا۔ایک بزرگ ایک دعوت میں گئے۔معمولی کپڑے