حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 174
حقائق الفرقان ۱۷۴ سُوْرَةُ الْأَحْقَافِ انسان کو چاہیے کہ اپنے ماں باپ ( یہ بھی میں نے اپنے ملک کی زبان کے مطابق کہہ دیا۔ور نہ باپ کا حق اول ہے اس لئے باپ ماں کہنا چاہیے ) سے بہت ہی نیک سلوک کرے۔تم میں سے جس کے ماں باپ زندہ ہیں۔وہ ان کی خدمت کرے۔اور جس کے ایک یا دونوں وفات پاگئے ہیں۔وہ ان کیلئے دعا کرے۔صدقہ دے اور خیرات کرے۔ہماری جماعت کے بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ مردہ کو کوئی ثواب وغیرہ نہیں پہنچتا۔وہ جھوٹے ہیں۔ان کو غلطی لگی ہے۔میرے نزدیک دعا ، استغفار ، صدقہ ، خیرات بلکہ حج زکوۃ ، روزے یہ سب کچھ پہنچتا ہے۔میرا یہی عقیدہ ہے اور بڑا مضبوط عقیدہ ہے۔ایک صحابی نبی کریم صلعم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری ماں کی جان اچا نک نکل گئی ہے۔اگر وہ بولتی تو ضر ور صدقہ کرتی۔اب اگر میں صدقہ کروں تو کیا اسے ثواب ملے گا تو نبی کریم صلعم نے فرمایا۔ہاں۔تو اس نے ایک باغ جو اس کے پاس تھا صدقہ کر دیا۔میری والدہ کی وفات کی تارجب مجھے ملی۔تو اس وقت میں بخاری پڑھا رہا تھا۔وہ بخاری بڑی اعلیٰ درجہ کی تھی۔میں نے اس وقت کہا۔اے اللہ۔میرا باغ تو یہی ہے۔تو میں نے پھر وہ بخاری وقف کر دی۔فیروز پور میں فرزند علی کے پاس ہے۔الفضل جلد نمبر ۲۵ مورخه ۳ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) ج ٣٠۔وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنْ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا انْصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِمْ مُنْذِرِينَ - 6 ترجمہ۔اور جب ہم نے پھیرا تیری طرف جنوں میں سے چند آدمیوں کو کہ وہ سننے لگے قرآن کو جب پیغمبر کے پاس آچکے تو آپس میں باتیں کرنے لگے کہ چپ رہو تو جب وہ پورا ہو گیا لوٹ کر پہنچے قوم کی طرف ڈراتے ہوئے۔تفسیر۔نَفَرًا مِّنَ الْجِن۔کچھ پہاڑی لوگ تھے۔یہودی معلوم ہوتے تھے۔نصیبین کے رہنے تفخیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۱) والے۔