حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 173
حقائق الفرقان ۱۷۳ سُوْرَةُ الْأَحْقَافِ ١٦ وَ وَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسَنًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَ وَضَعَتْهُ كرُهَا وَحَمْلُهُ وَفِصْلُهُ ثَلَثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَ بَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَى وَ عَلَى وَالِدَيَّ وَ أنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَ أَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ترجمہ۔اور ہم نے انسان کو وصیت کی ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی۔اُس کو پیٹ میں رکھا اس کی ماں نے تکلیف سے اور جنا تکلیف سے اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھڑائی تیں مہینے کی ہے۔یہاں تک کہ جب پہنچا اپنی جوانی کو اور چالیس برس کا ہوا تو لگا کہنے اے میرے رب ! مجھ کو اس بات کی توفیق دے کہ میں شکر ادا کروں تیرے احسان کا جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں نیک کام کروں جس سے تو راضی ہو اور میری اولاد میں نیک بختی پیدا کر۔میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں فدائی فرمانبرداروں میں سے ہوں۔تفسیر۔بڑے ہی بدقسمت وہ لوگ ہیں جن کے ماں باپ دنیا سے خوش ہو کر نہیں گئے۔باپ کی رضامندی کو میں نے دیکھا ہے اللہ کی رضامندی کے نیچے ہے اور اس سے زیادہ کوئی نہیں۔افلاطون نے غلطی کھائی ہے وہ کہتا ہے ”ہماری روح جو او پر اور منزہ تھی ہمارے باپ اسے نیچے گرا کر لے آئے“ وہ جھوٹ بولتا ہے۔وہ کیا سمجھتا ہے روح کیا ہے۔نبیوں نے بتلایا ہے کہ یہاں ہی باپ نطفہ تیار کرتا ہے پھر ماں اس نطفہ کو لیتی ہے اور بڑی مصیبتوں سے اسے پالتی ہے۔9 مہینے پیٹ میں رکھتی ہے بڑی مشقت سے حَمَلَتْهُ ائمه كُرْهًا وَ وَضَعَتْهُ كُرْهًا اسے مشقت سے اٹھائے رکھتی ہے اور مشقت سے جنتی ہے۔اس کے بعد وہ دو سال یا کم از کم پونے دو سال اسے بڑی تکلیف سے رکھتی ہے اور اسے پالتی ہے۔رات کو اگر وہ پیشاب کر دے تو بسترے کی گیلی طرف اپنے نیچے کر لیتی ہے اور خشک طرف بچے کو کر دیتی ہے۔