حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 8
حقائق الفرقان سُوْرَةُ فَاطِرٍ طرح ( اور مخلوقات ہے) اس کے سوائے نہیں کہ اللہ کے بندوں میں علم والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔بے شک اللہ بڑاز بردست ہے اور غفور ہے۔تفسیر - وَمِنَ النَّاسِ۔اب کھول کر بیان فرمایا ہے کہ آدمیوں میں ہی مجدد ، آدمیوں میں ہی ولی ، آدمیوں ہی سے نبی ، پھر آدمیوں ہی سے فاسق فاجر تک ہوتے ہیں۔الْعُلَموا۔ان لوگوں میں سے عالموں کا نشان بتاتا ہے کہ ان کی گفتار ، کردار میں خشیتہ اللہ پائی جاتی ہے۔کوئی جیا جی جانے والا ہو یا اسرا نمر ہو یا منطقی ہو یا نجومی یا طبیب۔خدا کے نزدیک عالم وہ ہے جو خشیتہ اللہ رکھے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۵۱ ۵۲ مورخه ۷ ۲ اکتوبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۰۹) پھر اندرونی مشکلات قوم کو سمجھنے کے واسطے اہل دل گروہ قوم کا دل اور علماء دماغ تھے۔امراء حکومت کرنے والے تھے۔لیکن اگر اہل دل علماء اور امراء کے حالات کو غور سے دیکھیں تو ایک عجیب حیرت ہوتی ہے۔عظمت الہبی اور خشیت الہبی علوم قرآنی کے جاننے کا ذریعہ تھا إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ العلموا یا یوں کہو کہ اہلِ دل گر وہ علماء سے بنتا ہے۔یا اہل دل ہی عالم ہونے چاہیے تھے مگر یہاں یہ عالم ہی دوسرا ہے۔فقر اور علم میں باہم تباعد ضروری سمجھا جاتا ہے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ عالم اور فقر کیا؟ وہ علم جو خشیت اللہ کا موجب ہوتا اور دل میں ایک رفت پیدا کرتا وہ علم جو خشیت اللہ کا موجب ہوتا۔ہرگز الحکم جلد ۵ نمبر ۱۳- ۱۰/ اپریل ۱۹۰۱ ء صفحہ ۷) سچے علوم سے معرفت نیکی اور بدی کی پیدا ہوتی ہے اور خدا کی عظمت و جبروت کا علم ہوتا ہے اور نہیں رہا۔اس سے کچی خشیت پیدا ہوتی ہے۔اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا یہ خشیت بدیوں سے محفوظ رہنے کا ایک باعث ہوتی ہے اور انسان کو متقی بناتی ہے اور تقویٰ سے محبت الہبی میں ترقی ہوتی ہے۔پس خشیت سے گناہ سے بچے اور محبت سے نیکیوں میں ترقی کرے۔تب بیٹرا پار ہوتا ہے اور مامور من اللہ کے ساتھ ہو کر اللہ تعالیٰ کے غضبوں سے جو زمین سے یا آسمان سے یاجو سے نکلتے ہیں محفوظ ہو جاتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴ مورخه ۳۱/جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۷ ) ادفی محبوبوں کو اعلیٰ محبوبوں پر قربان کرنے کا نظارہ ہر سال دیکھتا ہوں۔اس لئے ادنی محبت کو