حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 163 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 163

حقائق الفرقان ۱۶۳ سُورَة الدُّخَانِ ۲۱ - وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ - ترجمہ ۔ اور میں پناہ مانگتا ہوں میرے اور تمہارے رب سے اس سے کہ تم مجھ کو سنگسار کرو۔ تفسير وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي ۔ یہ دعا میری مجربہ ہے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۱) ٣٠ - فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ - ترجمہ ۔ تو اُن پر آسمان و زمین نہ روئے ( مذہبی اور دنیوی لوگ ) اور نہ اُن کو مہلت ملی نہ خودرو سکے اور نہ نادم ہو سکے ۔ تفسیر - فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ - ا - اہل ملک واہل زمین ۲۔ اس وقت خاص بارش کے چند قطرے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۱) ۵۰- ذُقُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - ترجمہ - چکھ تو تو بڑا عزت والا سردار تھا ۔ تفسیر۔ عزت بمعنی حمیت ضد جاہلیت ہے۔ ۔ دیکھو قرآن میں ایک جگہ اس کا استعمال ہوا ہے۔ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ (البقره: ۲۰۷) ۔ یعنی جب اسے خدا سے ڈرنے کو کہا جاتا ہے تو اسے عزت (ضد و حمیت جاہلانہ ) گناہ پر آمادہ کرتی ہے۔ پس ایسے کیلئے جہنم بس ہے۔ اور عزیز کا لفظ جو اس سے مشتق ہوا ہے۔ قرآن میں ( سورۂ دخان ) شریر جہنمی پر جب جہنم میں ڈالا جائے گا ابولا بولا گیا گیا ہے۔ ہے۔ ذُقُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - چکھ کیونکہ تو بڑی حمیت والا اور بزر بزرگ بنا بیٹھا تھا۔ اور عزیز اور رب العزت کے معنی ایک ہی ہیں ۔ پس رب العزت اُس شخص سے مراد ہے جو دنیا میں متکبر اور جبار اور بڑا ضدی کہلاتا ہے۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۱۵۳)