حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 157
حقائق الفرقان ۱۵۷ سُورَةُ الزُّخْرُفِ گی ۔ گوروشنی فی الحقیقت دیکھنے کا آلہ ہے۔ جب روشندان یا چراغ وغیرہ سے روشنی لے تو دوست کے دیدار سے وہ دیدار کا طالب آرام پاسکتا ہے۔ ایسا ہی دیدار اور دیدار سے آرام تو نجات ہے۔ اور وہ روشنی فضل و کرم خداوندی ہے۔ ایمان ایک روشندان یا چراغ ہے جو فضل کی روشنی کو کھینچتا ہے اور ایمان کو اس روشنی کا جاذب قرآن نے بھی کہا ہے۔ لو اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ (البقرة: ۲۵۸) پس جس قدر مومن کا ایمان بڑھتا ہے۔ اسی قدر وہ بڑے فضل کو جذب کرتا ہے۔ اور اسے حاصل کرتا ہے جیسے جس قدر روشندان اور فتیلہ بڑا ہو گا۔ اسی قدر زیادہ روشنی کو کھینچے گا۔ اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ جب ایمان ایمان فضل کو بلاتا ہے اور فضل سے نجات ہے تو اعمال کیا ہوئے؟ کیا اعمال لغو اور بیکار ہوں گے؟ تو معلوم ہوا کہ سائل نے ایمان اور اعمال نیک کا تعلق نہیں سوچا۔ کیونکہ نیک اعمال اور سچا ایمان ایک دوسرے کو لازم و ملزوم ہے۔ سچا ایمان نیک اعمال کا بیج ہے۔ اور اچھے بیج کا ضرور ہاں اچھے بیج کا ضرور اچھا ہی پھل ہوتا ہے۔ پولوس نامہ رومیاں ۶ باب ۱۵ میں صاف فرماتے ہیں کہ تم فضل کے اختیار میں ہو۔ پس تو کیا ہم گناہ کیا کریں۔ اس لئے کہ ہم شریعت کے اختیار میں نہیں۔ بلکہ فضل کے اختیار میں ہیں ۔ ایسا نہ ہو۔ کیا تم نہیں جانتے کہ جس کی تابعداری میں تم اپنے آپ کو غلام کے مانند سو نپتے ہو۔ اسی کے غلام ہو۔ جس کی تابعداری کرتے ہو۔ خواہ گناہ کی ۔ جس کا انجام موت ہے۔ خواہ فرماں برداری کی جس کا پھل راست بازی ہے۔ بھلا کچھ شک ہے کہ درخت اپنے پھلوں سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ بالکل سچ ہے کہ سچا ایمان اچھے اور نیک اعمال کا باعث ہے اور کفر اقسام بدکاریوں کا مثمر ۔ انسان کی کمزوریاں کبھی اسے کفر کے باعث فضل کے لینے میں بد نصیب کر کے گناہ کا مرتکب بناتی ہیں ۔ اور غفلت کی حالت میں شیطان کڑوے بیج بوتا ہے ۔ متی ۱۲ باب ۲۵ ۔ اس واسطے عادل خدا کی ذات بابرکات نے اس کی تدبیر فرمائی ۔ لے اللہ کام بنانے والا ہے ایمان والوں کا ، نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے اُجالے میں ۔