حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 156
حقائق الفرقان ۱۵۶ سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ پادری صاحبان! آپ کو عہد جدید میں دکھلا دیا کہ آپ کا یہ سوال کہ نجات اعمال سے ہے یا شفاعت سے کیسا کمزور ہے۔نجات نہ اعمال سے ہے نہ شفاعت سے۔نجات صرف خدا کے فضل سے ہے۔ہاں اتنی بات رہی کہ خداوندی فضل کو کون چیز جذب کرتی ہے۔اور کس کے ذریعہ ہم محض فضل سے نجات پاسکتے ہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان فضل ربانی کو جذب کرتا ہے۔قرآن فرماتا ہے۔فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ ( النساء: ۱۷۲) اس آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ان کو خداوند کریم فضل و رحمت میں داخل کرے گا۔عہد جدید بھی یہی کہتا ہے۔دیکھو نامہ رومیاں ۳ باب ۲۸۔کیونکہ ہم نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ آدمی ایمان ہی سے بے اعمال شریعت کے راست باز ٹھہرتا ہے اور نامیہ رومیاں ۴ باب ۳۔فرشتہ کیا کہتا ہے۔یہی کہ ابراہام خدا پر ایمان لا یا اور یہ اس کیلئے راست بازی گنا گیا۔نجات اور فضل اور ایمان کی مثال بعینہ ایسی ہے کہ ایک شخص جس کی آنکھیں تندرست ہیں۔ایک ایسے مکان میں جو بالکل بند ہے بیٹھا ہے اور کہیں اُس مکان میں روشنی آنے کا راستہ نہیں۔اب اس شخص کو ایک نہایت عزیز اور پیارے دوست کا دیدار مطلوب ہے اور وہ دوست بھی اس مکان میں موجود ہے۔اور ظاہر ہے کہ روشنی کے بدوں اپنے دوست کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا اور اس دوست کے دیدار سے اس طالب دیدار کے دل اور روح کو کوئی راحت نہیں مل سکتی۔جب تک روشنی نہ آوے۔اور دوست کا چہرہ نہ دکھلاوے۔روشنی لینے کے مختلف ذریعے ہیں۔یا تو اس مکان میں روشندان نکالے یا چراغ وغیرہ سے کام لے۔غرض کوئی چیز روشنی کی جاذب ہی نہیں تو روشنی دیدار لینے میں امداد نہ کرے ا سو جو یقین لائے اللہ پر اور اس کو مضبوط پکڑا تو ان کو داخل کرے گا اپنی مہر میں اللہ فضل میں۔